سفر نامہ: استنبول کا تکسیم اسکوائر، پوری دنیا کے لوگوں کے لئے شاپنگ کا مرکز... سید خرم رضا

تکسیم اسکوائر جاتے وقت پھر اس بات کا احساس ہوا کہ یہاں کی سڑکیں انتہائی صاف ستھری ہیں۔ 15 منٹ بعد ہم لوگ ایک انتہائی ماڈرن بازار کے قریب کھڑے ہوئے تھے جس کے مرکز میں جمہوریت کا ایک مجسمہ لگا ہوا تھا۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

سید خرم رضا

دس بارہ کلومیٹر چلنے کے بعد جو تھک کر نیند آئی وہ بہت شاندار تھی۔ اچھی نیند نے اپنا کام کیا اور اگلے دن کے لئے جسمانی اور ذہنی طور پر ہمیں ترو تازہ کر دیا۔ ہوٹل کے روائتی ناشتہ کے بعد میں نے ہوٹل کے رسیپشنسٹ سے پوچھا کے تکسیم اسکوائر جانے کے لئے کس سواری سے سفر کرنا بہتر رہے گا میٹرو، ٹرام یا پھر ٹیکسی۔ تاجکستان سے پڑھنے کے لئے آئے واحد نام کے اس رسیپشنسٹ نے ٹیکسی کے آپشن پر انگلی دبا دی۔ ٹیکسی کا نام سنتے ہی میں نے پھر پوچھا کہ کوئی اور متبادل نہیں ہے۔ اس نے کہا سب سے بہتر یہی ہے۔ ٹیکسی والوں کے دھوکہ اور جھوٹ کے اتنے قصہ سن چکا تھا کہ میں نے اس سے کہا کہ ٹھیک ہے لیکن ٹیکسی کو آپ ہی بلاؤ اور کرایہ پہلے طے کر لینا، ہم میٹر سے نہیں جائیں گے۔ اس نے ٹیکسی اسٹینڈ سے فون کر کے ایک ٹیکسی بلا لی اور طے کر دیا کہ تکسیم اسکوائر کے 40 لیرا دینے ہیں۔

تکسیم اسکوائر جاتے وقت ایک بار پھر اس بات کا احساس ہوا کہ یہاں کی سڑکیں انتہائی صاف ستھری اور شاندار ہیں۔ 15 منٹ بعد ہم لوگ ایک انتہائی ماڈرن بازار کے قریب کھڑے ہوئے تھے جس کے مرکز پر جمہوریت کا ایک مجسمہ لگا ہوا تھا تو اس کے دائیں جانب ایک شاندار مسجد کی تعمیر ہو رہی ہے۔ بازار میں قدم رکھتے ہی یہ احساس ہوا کہ ہم یوروپ کے کسی بازار میں کھڑے ہیں۔ دہلی کا کناٹ پیلس جو فن تعمیر کے حساب سے بہت خوبصورت ہے یہاں کی کشادہ اور برینڈیڈ سامان کی دوکانوں کو دیکھنے کے بعد کناٹ پیلس کی یاد آئی۔

تکسیم اسکوائر کے بازار میں داخل ہوتے ہی ایک خاص چیز نظر آئی۔ پورے بازار میں جیسے ہمارے یہاں انتخابات کے دوران پارٹیوں کے جھنڈے لٹکے ہوتے ہیں ایسے ہی پورے بازار میں لال اور پیلے رنگ کے چھوٹے چھوٹے جھنڈے لگے ہوئے ہیں۔ میرے بیٹے نے بتایا کہ یہ ترکی کے سب سے بڑے فٹبال کلب ’گیلاتاسرے فٹبال کلب‘ کے فلیگس ہیں۔ فٹبالر ہونے کی وجہ سے یہ دیکھ کر بے خوشی ہوئی اور بے ساختہ دل سے نکلا کہ کاش ایسا ہندوستان میں بھی ہو۔ تھوڑی دور چلنے کے بعد اسی کلب کا ایک شاندار اسٹور نظر آیا اس میں جا کر دیکھا تو کلب کی جرسی سے لے کر ہر سامان فروخت ہو رہا تھا اور اس میں خاصی بھیڑ لگی ہوئی تھی۔ تکسیم اسکوائر میں پوری دنیا سے لوگ شاپنگ کرنے آتے ہیں۔

تکسیم اسکوائر میں کپڑے اور جوتوں کے تو شاندار شو روم تھے ہی، ساتھ ہی ہر تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر آئس کریم کی دوکانیں نظر آئیں اور ہر دوکان پر دوکان دار ایک خاص انداز میں آئس کریم بیچتے ہوئے اور بچوں سے مذاق کر رہے تھے۔ پانچ چھ بڑے شو روم کے بعد سڑک کے دونوں جانب گلی ہے جس میں باہر کرسیاں لگی ہوئی ہیں، یہاں پر ایک بڑی تعداد میں لوگ کھانا اور چائے پیتے نظر آ جائیں گے۔ بازار دیکھنے میں بڑا اور مہنگا نظر آ رہا تھا، لیکن مہنگا تھا نہیں۔ ہر تیسری دوکان کے باہر’50 فیصد اندرم‘ کا بورڈ لگا ہوا تھا یعنی 50 فیصد کی چھوٹ۔ سامان بہت اچھا اور ہندوستان کے مقابلہ بالکل بھی مہنگا نہیں تھا۔

بازار میں گھوم رہے لوگوں کے لباس اور شکلوں سے احساس ہو رہا تھا کہ ہم یوروپ کے کسی بڑے بازار میں چہل قدمی کر رہے ہیں، بس یوروپ کی طرح یہاں افریقہ کے لوگ کم تھے اور 20 فیصد خواتین عبایہ پہنے ہوئی تھیں، لیکن یوروپ کی طرح ہر تھوڑے فاصلہ پر یا تو گروپ میں یا تنہا کوئی نہ کوئی گانا گاتا نظر آ رہا تھا اور لوگ ان گانوں کا مزہ لینے کے بعد گانے والوں کو کچھ پیسے دے رہے تھے۔ اس طرح گانے کا یہاں بڑا رواج ہے، یہاں کے مردوں کی آواز بہت اچھی ہے اور ساتھ میں انہیں گانے کا شوق بھی ہے۔ بازار میں تھوڑی بہت خریداری اور میک ڈونالڈ میں کھانا کھانے کے بعد بازار میں موجود ایک مسجد میں نماز ادا کی۔ یہاں واش روم استعمال کرنے کے لئے ایک لیرا کا سکّہ ڈالنا ہوتا ہے جبھی دروازہ کھلتا ہے۔ یہاں کی مسجدوں کے وضو خانہ بہت جدید اور اچھے ہیں۔ پورے استنبول میں ایک ہی طرز کی چھوٹی مساجد ہیں جس میں ایک گنبد اور ایک مینار ہوتا ہے۔ میناروں میں یوروپ کی جھلک نظرآ تی ہے۔ اندر سے مسجد بہت صاف، ستھری اور تشبیح سے لے کر خواتین کے لئے علیحدہ جگہ تک ہر چیز بہت سلیقہ ے نظر آئے گی۔

نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہم لوگ بازار کے آخری کونے پر واقع ’گلاٹا ٹاور‘ کی جانب بڑھے۔ اس نو منزلہ ٹاور میں جانے کے لئے ٹکٹ کی لمبی لائن تھی۔ آدھے گھنٹے کے بعد اندر داخل ہونے کا نمبر آیا تو ٹکٹ کاؤنٹر پر ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بتایا گیا کہ اوپر جانے کے 35 لیرا اور بعد میں ایک فائیو ڈی شو دیکھنے کے 15 لیرا اضافی لگیں گے۔ تفصیل پوچھنے پر بتایا گیا کہ اس شو میں آپ کو ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعہ استنبول دکھایا جائے گا مگر یہ حقیقی ہیلی کاپٹر نہیں ہوگا بلکہ یہ ایک فلم کے ذریعہ دکھایا جائے گا، لیکن آپ کو احساس یہی ہو گا کہ آپ جیسے ہیلی کاپٹر میں سفر کر رہے ہیں۔

بہر حال ہم نے اس شو کا بھی ٹکٹ لے لیا، پہلے سات منزل تک بذریعہ لفٹ اوپر پہنچے اس کے بعد خوبصورت بنیں لکڑی کی سیڑھیوں سے باقی دو منزلوں کا سفر طے کیا۔ اوپر پہنچ کر پیرس کے ایفل ٹاور کی یاد آگئی۔ پورا شہر سامنے دکھائی دے رہا تھا۔ ایک جانب سمندر تھا تو باقی تین جانب شہر کی اونچی اونچی عمارتیں تھیں۔ کافی وقت گزارنے کے بعد پتلی پتلی سیڑھیوں کے ذریعہ دوسری منزل پر پہنچے جہاں شو تیار تھا۔ ایک خاتون نے سب کو فائیو ڈی چشمہ دیا، پھر جب سب لوگ اس چھوٹے سے ہال کی سیٹوں پر بیٹھ گئے تو شو اسٹارٹ ہوا۔ ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کی آواز آتی ہے کہ وہ استنبول کے سفر کے لئے تیار ہے۔ سفر کا آغاز ہوتا ہے اور استنبول کے تمام تاریخی مقامات کا سفر اس ہیلی کاپٹر میں کرانے کے بعد پائلٹ واپس گلاٹا ٹاور میں ہیلی کاپٹر کو لینڈ کرتا ہے اور اس طرح یہ سفر ختم ہوجاتا ہے۔ انتہائی دلچسپ فائیو ڈی شو تھا، اگر ہم یہ نہیں دیکھتے تو اس کی کمی ضرور محسوس ہوتی۔ گلاٹا ٹاور 1453 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کے تعمیر کا مقصد یہ تھا کہ بوسفورس سمندر میں آنے والے دشمن کو دور سے دیکھنے کے بعد فوج کو آگاہ کرنا تھا، ساتھ ہی ٹاورکے اوپر سے یہ دیکھا جا سکتا تھا کہ شہر میں کہیں آگ وغیرہ تو نہیں لگی یعنی اس ٹاور سے پورے شہر پر بھی نظر رکھی جا سکتی تھی۔

ٹاور سے نیچے اترنے کے بعد نماز پڑھی اور پھر ٹیکسی کے ذریعہ ہوٹل کی جانب واپسی کا سفر شروع کیا۔ صبح کے مقابلہ واپسی میں کم وقت لگا۔ گزشتہ روز ہم نے اپنے سفر کے دوران تاریخ کے کچھ اوراق پلٹ کر دیکھے تھے اور آج ہم نے تاریخ کے ساتھ جدید استنبول کو دیکھا تھا جو کہ یوروپ اور مشرق کا سنگم تھا۔ اس بازار میں آنے والے 80 فیصد مسلم شہری تھے مگر پوری طرح یوروپی لگ رہے تھے۔ لیکن اس کا اندازہ اس وقت ہوتا تھا جب وہ لوگ اپنے بچوں کو نام لے کر آواز دیتے تھے، کوئی کہتا زینب، کوئی کہتا مریم اور کوئی کریم۔ کل استنبول سے باہر جانے کا ارادہ ہے دیکھتے ہیں وہاں کا تجربہ کیسا رہتا ہے اور وہاں کیا دیکھنے کو ملتا ہے، جب تک کے لئے خدا حافظ۔

Published: 10 Jul 2019, 8:10 AM