عرفان خان کی اداکاری میں موجود تپش لوگوں کو اپنا مرید بنا لیتی تھی

اکثر اسٹیج پر اداکاروں کی توانائی آپ کو متاثر کرتی ہے، لیکن عرفان خان کی اداکاری میں ایک بے حد گہری اور انسانی تپش تھی جو سبھی ناظرین کو ذاتی طور پر متاثر کرتی تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

پرگتی سکسینہ

مجھے ہمیشہ لگتا رہا کہ عرفان خان سے میرا ایک ذاتی ربط ہے۔ نیشنل اسکول آف ڈراما میں ان کا گریجویشن پلے تھا 'لال گھاس پر نیلے گھوڑے'۔ یہ اس وقت کے مشہور روسی ڈرامہ نگار میخائل شاتروو کے ڈرامہ کا ترجمہ تھا جسے پیش کیا گیا۔ یہ میری زندگی کا وہ پہلا ڈرامہ تھا جس کا میں نے تجزیہ لکھا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ اس سے پہلے تھیٹر یا ڈراموں سے لگاؤ نہیں تھا۔ لیکن کبھی آفیشیل طور پر تجزیہ نہیں کیا تھا۔ پہلی بار عرفان خان کو اسٹیج پر دیکھا اور محسوس ہوا کہ اس اداکار میں ایک عجیب سی تپش ہے۔ اکثر اسٹیج پر اداکاروں کی توانائی آپ کو متاثر کرتی ہے، لیکن عرفان خان کی اداکاری میں ایک بے حد گہری اور انسانی تپش تھی، جو ہر ناظر کو ذاتی طور پر متاثر کرتی تھی۔

پردے پر بھی ان کی اداکاری کی یہی خاصیت رہی۔ دہلی میں ایک دو بار کی چھوٹی ملاقاتیں یاد ہیں جو بالکل اہم نہیں تھیں۔ دبلا پتلا یہ شخص میری طرح کم ہی بولتا تھا۔ لیکن اتنا ضرور تھا کہ اسٹیج پر عرفان کو دیکھ کر یہ احساس ہو گیا تھا کہ وہ اپنی ایک الگ اور خاص شناخت ضرور بنائیں گے۔

اس کے بعد عرفان خان کو جب فلم 'مقبول' میں دیکھا تو دل ہی دل مسکرائی۔ ایک نئی اور ناتجربہ کار تجزیہ نگار ہونے کے باوجود میرا اندازہ بالکل درست تھا۔ اداکاری کی دنیا میں عرفان خان نے اپنی ایک خاص جگہ بنا لی تھی، ایسی جو فلمی دنیا کے ہیرو سے بھی کہیں اہم تھی۔ عرفان ان چنندہ اداکاروں میں سے ہیں جنھیں اداکاری کے لیے بہت سے الفاظ کی ضرورت نہیں رہی، نہ ہی انھیں اپنی شخصیت کے حساب سے بنے ہوئے کرداروں کی ضرورت تھی۔ فلم 'لائف اِن اے میٹرو' کا مونٹی ہو، 'قریب قریب سنگل' کا یوگی، 'نیم سیک' کا اشوک ہو یا پھر 'لنچ باکس' کا ساجن فرنانڈیز، عرفان خان بخوبی ہر کردار میں خود کو ڈھال لیتے تھے۔ کچھ اس طرح کہ اس اداکاری کی ایک خاص گرماہٹ فلم اور کہانی ختم ہونے کے بعد بھی دیر تک آپ کے ساتھ رہ جاتی تھی۔

حالانکہ این ایس ڈی کے ڈرامہ کے بعد سے اب تک ایک طویل عرصہ گزر گیا۔ ایک طویل سفر بھی، لیکن ابھی تو زندگی کے اس مقام پر پہنچا تھا یہ اداکار جب وہ اطمینان سے اپنی مرضی کا کام کر سکتا تھا۔ بطور اداکار ابھی اسے اپنی ہی شخصیت کے بہت سے زاویے تلاش کرنے تھے، محسوس کرنے تھے۔ ابھی تو ہدایت کاری میں بھی لوگوں کو آس تھی کہ عرفان خان بہت اچھا کام کریں گے۔ اس معنی میں ابھی تو سفر کی شروعات ہی تھی اور عرفان خان اچانک دنیا سے رخصت ہو گئے۔

یوں تو ان کی بیماری کے بارے میں سال دو سال سے سنتے ہی آ رہے تھے، لیکن بڑا بھروسہ تھا کہ علاج ہو جائے گا۔ جلد ہی ٹھیک ہو جائیں گے، ابھی عمر ہی کیا ہے۔ آج جب عرفان خان کے انتقال کی خبر سنی تو دل میں جیسے ایک کسک سی محسوس ہوئی۔ ایسا لگا کہ جب پہلی بار ملی تھی تو کچھ بات کر لینی چاہیے تھی۔ کب، کون آپ کے پاس سے گزرتا ہوا کتنی دور نکل جائے، کیا معلوم۔

Published: 29 Apr 2020, 9:11 PM