دنیا کو الوداع کہنے والے عرفان خان نے فلمی دنیا میں اپنا مقدر خود بنایا

عرفان خان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنا مقدر خود بنایا اور ممبئی جیسے شہر میں بغیر کسی گاڈ فادر کے اپنی ایک الگ شناخت بنائی۔ اپنی اداکاری کے ہنر سے انہوں نے اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا تھا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ممبئی: بالی ووڈ میں اپنی سنجیدہ اداکاری کے لئے مشہور اداکار عرفان خان کا بدھ کو یہاں کے کوکیلا بین دھیرو بھائی امبانی اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ وہ لمبے وقت سے کینسر سے جوجھ رہے تھے اور ان کا علاج غیرملکوں میں بھی ہوا تھا۔ منگل کو اچانک ان کی طبیعت خراب ہوگئی تھی اور انہیں آئی سی یو میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں آج عرفان خان نے آخری سانس لی۔ انہوں نے اپنی زبردست اداکاری سے نہ صرف بالی ووڈ بلکہ ہالی ووڈ میں بھی اپنے ہنر کا جوہر دکھایا، لیکن وہ اداکار نہیں بلکہ کرکیٹر بننا چاہتے تھے۔

عرفان خان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنا مقدر خود ہی بنایا اور ممبئی جیسے شہر میں ان کا کوئی گاڈ فادر بھی نہیں تھا لیکن اپنی اداکاری کے ہنر سے انہوں نے اپنے صلاحیت کا لوہا منوایا تھا۔عرفان کی پیدائش راجستھان کے جے پور کے آمیر اوڑ علاقے کے ایک عام سے کنبے میں سات جنوری 1967 کو ہوئی تھی۔ ان کے والد کی ایک ٹائر پنچر بنانے کی دکان تھی۔ ان کے والد کا نام صاحب زادے یاسین علی خان ہے اور مان کا نام سعیدہ بیگم تھا، جن کا انتقال 25 اپریل 2020 کو ہوا ہے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ اپنی ماں کے جنازے میں بھی شریک نہیں ہوسکے تھے۔

عرفان خان گھر میں بڑے بیٹے تھے تو ذمہ داریاں بھی زیادہ تھیں۔ گھروالوں کو امید تھی کہ عرفان جلد کمانا شروع کردیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ بچپن کے دنوں میں عرفان خان کرکیٹر بننا چاہتے تھے لیکن خاندان کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے انہیں اپنی خواہش بدلنی پڑی۔ وہ بچپن میں اچھے کرکیٹر بھی تھے اور سی کے نائیڈو ٹرافی میں ان کا سلیکشن بھی ہوگیا تھا۔ ان کے والد کو شکار کرنا بہت پسند تھا، اس لئے عرفان بھی بچپن میں اپنے والد کے ساتھ شکار کے لئے جاتے تھے۔

عرفان جب گریجویشن کر رہے تھے، اسی وقت ان کی توجہ ایکٹنگ کی طرف ہوگئی۔ پہلے کچھ نئے اداکاروں کے ساتھ وہ اداکاری سیکھنے کی کوشش کرنے لگے۔ پھر ان کی ملاقات نیشنل اسکول آف ڈرامہ (این ایس ڈی) کے ایک شخص سے ہوئی، وہ کالجوں میں جاکر ڈرامہ کیا کرتے تھے۔ عرفان بھی ان کے ساتھ ان کی ٹیم میں شامل ہوگئے اور طلبہ کے ساتھ کوریڈور، کلاس روم اور کینٹین میں ڈرامہ کرتے ہوئے ہی ایکٹنگ میں ماہر ہوئے اور اسی سمت میں کریئر بنانے کے لئے سنجیدہ بھی ہوئے۔

عرفان خان نے جب دہلی کے نیشنل اسکول آف ڈرامہ میں ایکٹنگ کے کورس کے لئے ایڈمشن لیا تو تھوڑے ہی وقت بعد ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ ایسے میں عرفان خان کو گھر سے ملنے والی مالی مدد بند ہوگئی اور ایسے میں کچھ سہارا ان کو ملنے والی اسکالرشپ نے دیا اور ان کی ایک کلاس میٹ ستاپا سکندر نے بھی ان کی کافی مدد کی، کورس پورا ہونے کے بعد عرفان ستاپا کے ساتھ ممبئی آگئے اور بعد میں دونوں نے نکاح کرلیا۔

عرفاں خان کے کریئر کی شروعات ٹیلی ویژن سیرئل سے ہوئی تھی، اپنے شروعاتی دنوں میں وہ چانکیہ، بھارت ایک کھوج، چندر کانتا جیسے سیئریلوں میں نظر آئے۔ انہوں نے اپنے سنی کریئر کی شروعات سال 1988 میں ریلیز ہوئی میرا نائر کی فلم ’سلام بامبے‘ سے ایک چھوٹے سے رول سے کی تھی۔

سال 1990 میں ریلیز فلم ’ایک ڈاکٹر کی موت‘ سے عرفام اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ پھررفتہ رفتہ انہیں کام ملنے لگا، دیکھتے ہی دیکھتے ایک دہائی کا سفر گزر گیا لیکن انہیں اسٹارڈم نہیں ملا۔ سال 2001 میں عرفان کی فلم دی واریئر اور قصور ریلیز ہوئی جو کامیاب رہیں۔

اس کے بعد 2003 میں عرفان خان کی فلم حاصل ریلیز ہوئی اور اس کے ٹھیک بعد مقبول، ان دونوں فلموں نے انہیں وہ شہرت دلائی جس کے وہ حق دار تھے اور ان دونوں ہی فلموں کے بعد ان کے کریئر نے اچانک رفتار پکڑ لی۔ سال 2007 میں ریلیز فلم ’لائف ان اے میٹرو‘ اور دی نیمسیک میں عرفان خان نے زبردست اداکاری کی اور شائقین کا دل جیت لیا۔