عرفان خان کی آخری آماجگاہ بنا ممبئی میں اندھیری واقع قبرستان

منگل کی صبح پیٹ میں تکلیف کے بعد عرفان خان کو کوکیلا بین اسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں داخل کرایا گیا تھا۔ ڈاکٹروں نے ان کا علاج سخت نگرانی میں کیا، لیکن بدھ کی صبح عرفان اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

آج (29 اپریل) صبح اس دنیا کو الوداع کہنے والے مشہور و معروف اداکار عرفان خان کو چند احباب و اقارب کی موجودگی میں نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔ انھیں ممبئی واقع اندھیری کے ورسووا میں موجود قبرستان میں دفن کیا گیا۔ پہلے اس طرح کی خبریں آئی تھیں کہ انھیں گھر لے جایا جائے گا لیکن کوکلا بین اسپتال کے ڈاکٹروں کی صلاح کے بعد عرفان خان کے اہل خانہ اسپتال سے ہی ان کے جسد خاکی کو ورسووا قبرستان لے گئے اور آخری رسومات ادا کی۔

عرفان خان نیورو اینڈکرائن ٹیومر کی وجہ سے گزشتہ کچھ سالوں سے پریشان تھے اور اس کا علاج انھوں نے بیرون ملک جا کر کرایا بھی تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ منگل کی صبح ان کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی اور انھیں پیٹ میں کافی تکلیف محسوس ہوئی جس کے بعد کوکیلا بین اسپتال لے جایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ انھیں اسپتال کے آئی سی یو میں داخل کرایا گیا تھا اور ڈاکٹروں نے انھیں سخت نگرانی میں رکھا تھا، لیکن وہ عرفان خان کو نہیں بچا سکے۔ اسپتال میں عرفان خان کی بیگم ستاپا سکندر، دونوں بیٹے اور بالی ووڈ کے کچھ احباب بھی تھے۔

عرفان خان کے انتقال کی خبر پھیلنے کے بعد بالی ووڈ میں تو غم کا ماحول چھایا ہی، دیگر شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والی مشہور ہستیوں نے بھی اپنے افسوس کا اظہار کیا۔ سچن تندولکر، وراٹ کوہلی، سائنا نہوال، راہل گاندھی، ممتا بنرجی، اشوک گہلوت جیسی ہستیوں نے ٹوئٹ کے ذریعہ عرفان خان کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ کے تئیں پرخلوص ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔