سویڈن اور ہالینڈ کا اسرائیل سے تجارت روکنے اور وزراء پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ

رپورٹ کے مطابق، دونوں ملکوں نے یورپی یونین کو ایک مشترکہ خط بھیجا  ہےجس میں خاص طور پر ان اسرائیلی وزراء پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے جو غیر قانونی بستیوں کی کھلی حمایت کرتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ڈنمارک میں یورپی وزرائے خارجہ اور دفاع کے اجلاس کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سویڈن اور ہالینڈ نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ موجود تجارتی معاہدے کو فوری طور پر معطل کرے۔ یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے اور غزہ میں جاری پالیسیوں پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

”العربیہ“ کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق، دونوں ملکوں نے بدھ کے روز یورپی یونین کو ایک مشترکہ خط بھیجا جس میں خاص طور پر ان اسرائیلی وزراء پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے جو مغربی کنارے میں غیر قانونی بستیوں کی کھلے عام حمایت کرتے ہیں۔ خط میں کہا گیا کہ یہ وزراء نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کو ہوا دے رہے ہیں بلکہ خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔


ہالینڈ اور سویڈن نے اپنے موقف میں اسرائیل کو "ای ون" بستی کے منصوبے پر سخت الفاظ میں خبردار کیا۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس کے نتیجے میں دو ریاستی حل کا امکان تقریباً ختم ہو جائے گا۔ یورپی ممالک کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں مزید کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کسی بھی قسم کے مذاکرات کے راستے بند کر سکتے ہیں۔

مزید برآں، دونوں ملکوں نے غزہ کی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق غزہ کی موجودہ حالت نہایت سنگین اور ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں کی صورتحال کو  بیان کرنا مشکل ہے کیونکہ انسانی جانوں کا ضیاع، بنیادی سہولتوں کی کمی اور تباہ کن انسانی بحران بدترین شکل اختیار کر چکا ہے۔


یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی یونین کے اندر اسرائیل کی پالیسیوں کے حوالے سے اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں۔ بعض ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول کے مطابق رکھنے کے حامی ہیں، جبکہ دیگر ممالک جیسے سویڈن اور ہالینڈ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ جب تک اسرائیل بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کا احترام نہیں کرتا، اس کے ساتھ تجارتی اور سیاسی تعلقات پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔ (انپٹ بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ، اردو)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔