سیاسی

ہندوستان: لیبر قانون کے خاتمہ کے ساتھ ہی ’تاریکی دور‘ کی خوفناک شروعات

معاشی پیکیج کے اعلان میں دو ماہ سے بغیر تنخواہ اور کام کے بھوکے پیاسے سسک رہے مزدوروں کا ذرا بھی خیال نہیں رکھا گیا۔ ان کے اکاؤنٹس میں پیسے ڈالنے کی جگہ وزیر مالیات صرف باتوں کو گھماتی رہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

ملک گیر لاک ڈاؤن کے بعد ایک ریاست سے دوسری ریاست جا کر اپنے خون پسینے سے اپنی فیملی کی پرورش کرنے والے لاکھوں مزدوروں نے پہلی بار اپنے ہی ملک کی منتخب حکومت کے ہاتھوں اپنی بدحالی کا اتنا تلخ ذائقہ چکھا ہے۔ وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے بدھ کو ملک کے ان کئی کروڑ نجی سیکٹر کے مزدوروں اور تنخواہ دار ملازمین کو بے حد مایوس کیا جو بغیر وجہ ان کی حکومت کے بغیر سوچے سمجھے تھوپے گئے لاک ڈاؤن کے سب سے زیادہ شکار ہوئے ہیں۔

Published: 14 May 2020, 9:40 PM IST

معاشی پیکیج کے اعلان میں دو ماہ سے بغیر تنخواہ اور بے روزگاری میں بھوکے پیاسے سسک رہے مزدوروں کے اکاؤنٹس میں پیسے ڈالنے کا اعلان کرنے کی جگہ باتیں صرف ادھر ادھر گھمائی گئیں۔ اب تو یہی لگتا ہے کہ مہاجر مزدوروں کو ابھی مزید کچھ دن خالی جیب بھوکوں مرنے کو چھوڑ دیا گیا۔ اب کئی سوال مزدوروں کے سامنے کھڑے ہو گئے ہیں، مثلاً وہ کب خالی ہاتھ اپنے گاؤں لوٹیں گے؟ انھیں کام پر کب واپس بلانے کی بات ہوگی؟ دو ماہ سے خالی جیب وہ کس بھروسے گاؤں چھوڑ کام دھندوں پر لوٹنے کا جوکھم لیں گے؟

Published: 14 May 2020, 9:40 PM IST

تمام ماہرین کا ماننا ہے کہ نرملا سیتارمن نے ایسی باتوں میں ہی پریس کانفرنس کا وقت ضائع کیا جو ہندوستان جیسی بڑی اکونومی کو ڈیل کر رہی وزیر مالیات کے عہدہ کے موافق قطعی نہیں۔ سنٹر فار انڈین ٹریڈ یونین (سیٹو) کے جنرل سکریٹری اور سابق راجیہ سبھا رکن تپن سین کا کہنا ہے کہ "ایم ایس ایم ای سیکٹر کو جو پیکیج دینے کی باتیں اچھالی گئیں، وہ عطیہ نہیں بلکہ قرض ہے۔ ایک سال کی رعایت قرض ادائیگی میں دی گئی ہے، لیکن بعد میں سود سمیت اسے واپس کرنا ہی ہوگا۔ مزدور طبقہ سے سماجی سیکورٹی چھیننے کا راستہ صاف کر دیا گیا ہے۔ اقتدار کے قریبی بڑے امیر گھرانوں کے اشارے پر ہی مودی حکومت نے لیبر ایکٹ کو اس قدر بے معنی بنا دیا۔ اب پی ایف کی شرح میں بھی تخفیف طے ہے۔"

Published: 14 May 2020, 9:40 PM IST

لاک ڈاؤن میں پی ایم مودی کی بات کو ملک میں کتنی توجہ ملی، لیکن ملک کے سارے مزدوروں اور نجی سیکٹر کے لوگوں نے اس کا خمیازہ خود بھگت لیا۔ مودی کی بات کتنے صنعت کاروں نے مانی یا نہیں مانی، اس بارے میں پی ایم او کو صحیح زمینی رپورٹ ضلعوں کے محکمہ محنت، پولس تھانوں سے لے کر بلاک اور ضلع سطح سے منگانی چاہیے تھی۔ ملک میں اب کسی کو بھی اس بات کی ذرا بھی امید نہیں ہے کہ جو حکومت کورونا سے لڑنے کا بہانہ بنا کر مزدوروں کے استحصال اور ظلم کی عبارت لکھ کر لیبر ایکٹ کو ہی ختم کر چکی ہے، اس حکومت میں اتنی اخلاقی طاقت کہاں بچی ہے کہ لاک ڈاؤن میں مزدوروں کی تنخواہ کو لازمی کر پاتی۔

Published: 14 May 2020, 9:40 PM IST

وزیر اعظم نریندر مودی نے 12 مئی کی شام کو 8 بجے اپنے جانے پہچانے انداز میں ملک کے لیے 20 لاکھ کروڑ روپے کے بے سر پیر کے پیکیج کا اعلان کیا۔ اس کے کئی حصوں کا انکشاف اور پوسٹ مارٹم ہندوستان میں طویل وقت تک ہونا ابھی باقی ہے۔ 20 لاکھ کروڑ اور 2020 کی تک بندی۔ لیبر، لاء، لینڈ، لیکویڈیٹی کو بنیاد مان کر آگے بڑھنے کا فلسفہ۔ لوگوں کے سر سے یہ ساری باتیں فوراً ہوا ہو جاتی ہیں۔

Published: 14 May 2020, 9:40 PM IST

اس کے ساتھ ہی پی ایم مودی نے کورونا کی اس خطرناک وبا کو حصولیابی میں بدلنے کا جو نعرہ دیا، وہ ملک میں زیادہ تر لوگوں کے گلے نہیں اتر رہا۔ ماہرین جو کورونا وبا سے نمٹنے میں پی ایم مودی کے طور طریقوں کی پہلے دن سے ہی تنقید کر رہے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ ہر روز صبح کوئی تین درجن آئی اے ایس افسروں کے ساتھ اپنی رہائش پر ہونے والی میٹنگ میں ملے بابوؤں کے ٹپس کے باہر وہ اب تک نہیں نکل پائے۔

Published: 14 May 2020, 9:40 PM IST

گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر مودی کی کارگزاری کو 13 سالوں تک قریب سے دیکھنے والے ایک سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ "تک بندی اور جملوں کے لفظی جال میں باتیں تیار کرنا مودی کی پرانی عادت ہے۔ وہ صرف مزدوروں کے ساتھ ہمدردی دکھانے کا مظاہرہ کرنے اور خود ہمدردی بٹورنے کے لیے خود کو چائے بیچنے والا، تو کبھی اپنی ماں کے پڑوس کے گھروں میں مزدوری کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔ لیبر ایکٹ کو ختم کرنے میں انھوں نے سب سے پہلے گجرات سے ہی شروعات کروا دی۔"

Published: 14 May 2020, 9:40 PM IST

ظاہر ہے کہ مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور گجرات میں مزدوروں کے آئینی حقوق کو ختم کر دیا گیا۔ کورونا بحران کی آڑ لے کر ملک میں لیبر ایکٹ کو ختم کرنے کے ذریعہ آزاد ہندوستان میں مزدوروں کے بنیادی حقوق پر یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔ 6 مئی کو دہلی میں سنٹرل ٹریڈ یونین کے ساتھ میٹنگ میں وزیر برائے محنت نے قومی لیبر تنظیموں کے مشوروں پر عمل کی باتیں رَدّی کی ٹوکری میں ڈال دیں۔

Published: 14 May 2020, 9:40 PM IST

غور طلب ہے کہ گزشتہ سال 23 جولائی کو مودی حکومت نے پیشہ کے تحت سیکورٹی، صحت اور کام کی شرطوں سے متعلق کوڈ بل لوک سبھا میں پیش کیا اور اسے پاس بھی کروا لیا۔ مرکزی لیبر آرگنائزیشنوں کی اپیل تھی کہ جب تک لاک ڈاؤن ہے، اس وقت تک نئے لیبر ایکٹ کو نافذ کرنے کے عمل کو ملتوی کر دیا جائے۔ مودی حکومت کو یہی موقع سب سے مفید لگا اور لیبر ایکٹ کو ہی ہندوستان سے الوداع کر دیا۔

Published: 14 May 2020, 9:40 PM IST

ماہرین کی نظر میں ملک کو خودکفیل بنانے کی جانب لے جانے کا دم بھرنے والے پی ایم مودی ہندوستان کو سرمایہ دارانہ نطام کے تحت مزدوروں کو غلامی کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ بیرون ملکی کمپنیوں کو لبھانے کے لیے جو نئے لیبر ایکٹ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر ہی آرڈیننس کے ذریعہ لاد دیئے گئے، ان سے ہندوستان میں لیبر سیکٹر کا ایک بڑا طبقہ غلامی، استحصال اور بدعنوانی کے نئے دور میں داخل ہو جائے گا۔ مودی حامیوں کی نظر میں ملک کے لیبر مارکیٹ کو بدعنوانی اور منمانی کی چھوٹ دینے کے اس ظالمانہ قدم کو نیشنلزم کے طور پر جانا جائے گا۔ لیبر آرگنائزیشن اسے تاریکی دَور کا نام دے رہے ہیں۔

Published: 14 May 2020, 9:40 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 14 May 2020, 9:40 PM IST