کلکتہ ہائی کورٹ نے ممتا بنرجی کی ریلی کو مشروط منظوری دے دی

عدالت کے حکم کے مطابق ریلی صرف سڑک کی ایک لین سے گزرے گی، جبکہ دوسری لین گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے کھلی رہے گی۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ ریلی میں 1000 سے زیادہ افراد کو شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔

<div class="paragraphs"><p>ممتا بنرجی، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

کلکتہ ہائی کورٹ کی سنگل جج بنچ نے منگل کو مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت میں کولکاتہ میں مختلف مسائل کے خلاف نکالی جانے والی احتجاجی ریلی کو مشروط اجازت دے دی۔ ان معاملات میں جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے باروئی پور میں مبینہ عصمت دری اور قتل کے بعد ایک کم عمر لڑکی کی موت کا واقعہ بھی شامل ہے۔

ریلی کے لیے پولیس سے اجازت نہ ملنے پر ممتا بنرجی نے منگل کی صبح جسٹس سوگتا بھٹاچاریہ کی سنگل جج بنچ سے رجوع کرتے ہوئے معاملے کی فوری سماعت کی درخواست کی۔ عدالت نے ان کی درخواست منظور کر لی اور منگل کو دن کے دوسرے نصف میں اس معاملے کی سماعت کی۔ تفصیلی دلائل سننے کے بعد جسٹس بھٹاچاریہ کی بنچ نے بالآخر چند شرائط کے ساتھ ریلی نکالنے کی اجازت دے دی۔


جسٹس بھٹاچاریہ کی جانب سے عائد کردہ شرائط کے مطابق ریلی کا راستہ جنوبی کولکاتہ کے بالی گنج فاری چوراہے سے ہاجرا چوراہے تک ہی محدود رہے گا۔ عدالت نے ریلی کو دوپہر 2:30 بجے سے شام 4:30 بجے تک، یعنی صرف 2 گھنٹے کے لیے اجازت دی ہے۔ عدالت کے حکم کے مطابق ریلی صرف سڑک کی ایک لین سے گزرے گی، جبکہ دوسری لین گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے کھلی رہے گی۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ ریلی میں 1000 سے زیادہ افراد کو شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔

واضح رہے کہ باروئی پور واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ممتا بنرجی پیر (6 جولائی) کو سڑکوں پر اتری تھیں۔ سابق وزیر اعلیٰ نے پیر کے روز جنوبی کولکاتہ کے کالی گھاٹ میں واقع اپنی رہائش گاہ سے ’موم بتی جلوس‘ نکالا تھا۔ حالانکہ ان کی رہائش گاہ کے قریب تعینات سنٹرل آرمڈ پولیس فورس (سی اے پی ایف) کے اہلکاروں نے جلوس کو روک دیا۔ اس کے باوجود ممتا بنرجی اپنے ساتھیوں اور حامیوں کے ساتھ رکاوٹیں اور بیریکیڈس کو پار کرتے ہوئے جلوس کے ساتھ سمیت ہریش چٹرجی اسٹریٹ کی مرکزی سڑک تک پہنچ گئیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔