ممتا کے بھتیجے ابھشیک بنرجی کو مشکلات کا سامنا، مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے گرفتاری وارنٹ پر لگی روک ہٹائی

موقع دیے جانے کے باوجود ابھشیک کی جانب سے کوئی بحث نہیں کی گئی، جس پر عدالت نے کہا کہ عرضی گزار اس عرضی کو آگے بڑھانے میں دلچسپی نہیں دکھا رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ابھشیک بنرجی، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے بھتیجے اور ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ ابھشیک بنرجی کی مشکلات ایک بار پھر بڑھ گئی ہیں۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ابھشیک کے گرفتاری وارنٹ پر عائد عبوری روک ہٹا دی ہے۔ عدالت نے ان کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔

موقع دیے جانے کے باوجود ابھشیک کی جانب سے کوئی بحث نہیں کی گئی، جس پر عدالت نے کہا کہ عرضی گزار اس عرضی کو آگے بڑھانے میں دلچسپی نہیں دکھا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 12 نومبر 2025 کے حکم کے ذریعے ایم پی-ایم ایل اے عدالت کی جانب سے جاری گرفتاری وارنٹ کے نفاذ پر جو روک لگائی گئی تھی، ہائی کورٹ نے اسے فوری اثر سے ختم کر دیا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ نومبر 2020 میں کولکاتا میں منعقد ایک سیاسی جلسے کے دوران ابھشیک بنرجی نے کیلاش وجے ورگیہ کے بیٹے آکاش وجے ورگیہ کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے۔ اس کے خلاف آکاش وجے ورگیہ نے بھوپال کی ایم پی-ایم ایل اے عدالت میں شکایت درج کرائی تھی۔ آکاش وجے ورگیہ کی جانب سے دائر مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے بھوپال کی ایم پی-ایم ایل اے عدالت نے ابھشیک کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا تھا۔

ابھشیک بنرجی کی جانب سے دائر عرضی میں کہا گیا تھا کہ وہ اس وقت رکن پارلیمنٹ ہیں، اس لیے ان کے فرار ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ بنچ نے عرضی کی سماعت کرتے ہوئے 12 نومبر 2025 کو گرفتاری وارنٹ کے نفاذ پر روک لگا دی تھی۔ تاہم بدھ کے روز سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے پیروی کے لیے کوئی بھی حاضر نہیں ہوا۔ اسے سنجیدگی سے لیتے ہوئے یک رکنی بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے عرضی گزار اس عرضی کو آگے بڑھانے میں اپنی دلچسپی کھو چکا ہے۔ یک رکنی بنچ نے گرفتاری وارنٹ پر عائد روک ہٹاتے ہوئے عرضی خارج کر دی اور ساتھ ہی حکم نامے کی ایک نقل بھوپال کی خصوصی عدالت کو بھیجنے کی ہدایت بھی جاری کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔