غریبوں کو حکومت نقدی فراہم کرے، ٹیکس میں راحت کافی نہیں : ماہرین معیشت

پہلے سے ہی خستہ حال معیشت کی حالت لاک ڈاؤن کی وجہ سے مزید خراب ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی حکومت کو معیشت کو رفتار دینے کے لیے 20 لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج کا اعلان کرنا پڑا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

پہلے سے ہی خستہ حال معیشت کی حالت لاک ڈاؤن کی وجہ سے مزید خراب ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرکز کی مودی حکومت کو معیشت کو رفتار دینے کے لیے 20 لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج کا اعلان کرنا پڑا۔ اس پیکیج میں سے تقریباً 6 لاکھ کروڑ روپے کے حصے کے بارے میں وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے بدھ کو تفصیلی جانکاری دی۔ مائیکرو، اسمال اور میڈیم صنعتوں کو قرض کے لیے 3 لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج جاری کرنے اور بجلی کمپنیوں میں 90 ہزار کروڑ روپے ڈالنے جیسے اہم اقدام کا وزیر مالیات نے اعلان کیا ہے۔ اس پیکیج کو لے کر ملک کے معروف ماہرین معیشت کی رائے بھی سامنے آئی ہے۔ ایک طرف کئی ماہرین نے اسے روزگار کے مواقع کے لیے ایک اچھی ترکیب بتائی ہے تو کئی جانکاروں کا کہنا ہے کہ غریبوں کے ہاتھوں میں رقم پہنچانے کی ضرورت ہے۔

کئی معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت غریبوں کے ہاتھوں میں پیسہ یعنی نقدی دے۔ عالمی بینک کے سابق چیف اکونومسٹ کوشک بسو نے اس پیکیج کے تعلق سے کہا ہے کہ اس سے زیادہ اہم یہ ہوگا کہ ہم لاک ڈاؤن سے کس طرح سے نکلتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ صرف ٹیکس میں راحت دینا ہی کافی نہیں ہے۔ غریب لوگوں کو کیش دیا جانا چاہیے، حالانکہ اس کی وجہ سے مہنگائی بھی بہت نہیں بڑھنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ طویل مدت سے میں ہندوستان کی معیشت کے لیے اچھے اشارے دیکھتا ہوں۔ مسئلہ لوگوں کا نظریہ بھی ہے، جو زیادہ خطرہ مان رہے ہیں۔ اس سے ریکوری کا پورا عمل ہی متاثر ہو سکتا ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم کیسے اسے بیلنس کرتے ہیں۔

سی آر آئی ایس آئی ایل ریسرچ کی ڈائریکٹر ایشا چودھری کا اس معاشی پیکیج کے تعلق سے کہنا ہے کہ "13 لاکھ کروڑ روپے کی گارنٹی کے ذریعہ نقدی کے بحران میں پھنسے ایم ایس ایم ای سیکٹر کو قرض بطور نقدی مل سکے گا۔ حالانکہ اس سے کریڈٹ کلچر کے خراب ہونے کا بھی رسک ہے۔ بینکرس کے پاس کھونے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے اور اس طرح ایمرجنسی رقم جاری کرنے سے جوکھم بڑھ سکتا ہے۔"

ارنیسٹ اینڈ ینگ انڈیا کے چیف پالیسی ایڈوائزری ڈی کے شریواستو نے بزنس ٹوڈے سے بات چیت میں کہا کہ "یہ پیکیج اہم طور پر کریڈٹ گارنٹی کے سہولیات پر مبنی ہے، جس کا حکومت کے خزانے پر کم ہی اثر ہوگا۔ مستقبل میں کسی طرح کے ڈیفالٹ پر ہی اس کی کوئی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ بجلی کمپنیوں کے لیے پیکیج کی بات کریں تو وہاں بھی ڈیفالٹ کی حالت میں بوجھ ریاستی حکومتوں کو ہی برداشت کرنا ہوگا۔"

اس پورے معاملے پر چیف معاشی مشیر رہے اروند پنگڑھیا سے جب بات چیت کی گئی تو انھوں نے معاشی پیکیج کی تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ اس پیکیج کو ایم ایس ایم ای پر فوکس کیا گیا ہے جہاں روزگار کے کافی مواقع ہوتے ہیں۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت کی جانب سے اگلی قسط میں کیا آتا ہے۔ بڑے صنعتی گھرانوں کو بھی مدد کی ضرورت ہے جو پروڈکشن میں بڑی حصہ داری رکھتے ہیں۔ حکومت ان کے لیے کیا کرتی ہے، یہ بھی آنے والے دنوں میں دیکھنا ہوگا۔

Published: 14 May 2020, 4:11 PM