رام مندر نذرانہ تنازعہ: اشوک گہلوت کا ٹرسٹ تحلیل کرنے کا مطالبہ

کانگریس نے رام مندر میں نذرانے کی مبینہ چوری کو عوامی عقیدت پر حملہ قرار دیتے ہوئے رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کو تحلیل کرنے، سپریم کورٹ کے جج سے جانچ اور مکمل تفصیلات عام کرنے کا مطالبہ کی

<div class="paragraphs"><p>رام مندر، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

نئی دہلی: کانگریس نے رام مندر میں نذرانے کی مبینہ چوری کے معاملے پر مرکزی حکومت، بھارتیہ جنتا پارٹی، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے کہا کہ یہ معاملہ کروڑوں عقیدت مندوں کے مذہبی جذبات سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس کی غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے اور پوری حقیقت عوام کے سامنے لائی جائے۔

کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اشوک گہلوت نے مطالبہ کیا کہ شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کو فوری طور پر تحلیل کیا جائے اور اس کی جگہ ایک نیا ٹرسٹ تشکیل دیا جائے، جس میں شنکراچاریوں، دھرم آچاریوں، سادھو سنتوں اور دیگر مذہبی نمائندوں کو شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس پورے معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کے کسی جج کی نگرانی میں ہونی چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

اشوک گہلوت نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کے حکم پر الیکٹورل بانڈ سے متعلق معلومات عوام کے سامنے پیش کی جا سکتی ہیں تو رام مندر کو نقد رقم، سونا، چاندی اور دیگر اشیا کی شکل میں ملنے والے تمام چڑھاوے کی مکمل تفصیل بھی عوامی کی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے مندر سے متعلق ہر کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھا، اس لیے اس معاملے پر بھی انہیں خاموشی توڑ کر اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔


انہوں نے الزام لگایا کہ شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کی تشکیل ہی ابتدا سے متنازع رہی اور اس میں بھارتیہ جنتا پارٹی، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور وشو ہندو پریشد سے وابستہ افراد کا غلبہ رہا، جبکہ جوابدہی کا کوئی مؤثر نظام قائم نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق متعلقہ افراد کو مبینہ بے ضابطگیوں کی پہلے ہی اطلاع تھی، لیکن معاملے کو دبانے کی کوشش کی گئی۔

اشوک گہلوت نے ٹرسٹ کی حالیہ میٹنگ میں اس معاملے کو چوری کے بجائے محض لاپروائی قرار دیے جانے پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاملہ صرف لاپروائی کا تھا تو پھر پہلی اطلاعاتی رپورٹ درج کرنے، خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے، گرفتاریاں کرنے اور استعفے لینے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ انہوں نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کو بھی عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے ٹرسٹ کے خزانچی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر خزانچی خود یہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں معیاری طریقۂ کار کی معلومات نہیں تھیں اور انہوں نے کسی چیک پر دستخط نہیں کیے، تو اس سے انتظامی نظام پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ اشوک گہلوت نے زمین خرید کے سابقہ تنازع کا بھی ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پہلے بھی مالی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شری رام مندر پورے ملک کے عوام کی عقیدت کا مرکز ہے اور اس سے متعلق ہر معاملے میں مکمل شفافیت اور جوابدہی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔