رام مندر چندہ تنازعہ: کانگریس کی ملک گیر احتجاجی مہم، کئی ریاستوں میں پیدل اور ستیہ گرہ
رام مندر میں چندے کی مبینہ چوری کے خلاف کانگریس نے یوپی، مہاراشٹر اور ہماچل سمیت کئی ریاستوں میں پیدل یاترا، ستیہ گرہ اور احتجاج کرتے ہوئے شفاف جانچ اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا

کانگریس نے ایودھیا کے رام مندر میں چندے اور چڑھاوے کی مبینہ خردبرد کے معاملے پر ملک گیر احتجاجی مہم کا آغاز کرتے ہوئے اتر پردیش، مہاراشٹر، ہماچل پردیش اور دیگر ریاستوں میں پیدل یاترا، ستیہ گرہ اور احتجاجی مارچ نکالے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ رام بھکتوں کے عطیات میں مالی بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف جانچ کرائی جانی چاہیے۔
اتر پردیش میں ریاستی کانگریس صدر اجے رائے کی ہدایت پر مظفرنگر، میرٹھ، مرادآباد، ایودھیا، گورکھپور، متھرا، آگرہ، جھانسی، رائے بریلی، کانپور دیہات، بلند شہر، بجنور، ہاپوڑ، امروہہ، رام پور، سنبھل، لکھیم پور، الٰہ آباد گنگا پار سمیت متعدد اضلاع میں ضلع اور شہر کانگریس کمیٹیوں نے ’سدبدھی پدیاترا‘ نکالی۔ اتر پردیش کانگریس نے کہا کہ اقتدار کے تحفظ میں پروان چڑھنے والی بدعنوانی کے خلاف عوامی غصہ سڑکوں پر نظر آیا اور مذہبی عقیدت کو کمائی کا ذریعہ بنانے والوں کو بے نقاب کرنا ضروری ہے۔
مہاراشٹر میں ریاستی کانگریس صدر ہرش وردھن سپکال نے ناسک کے تاریخی کالارام مندر سے ’رگھوپتی راگھو راجارام ستیہ گرہ‘ کا آغاز کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ رام مندر میں نقد عطیات، سونا، چاندی اور دیگر قیمتی اشیا میں خردبرد ہوئی ہے۔ سپکال نے کہا کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی جانچ حقیقت سامنے لانے کے بجائے معاملے پر پردہ ڈالنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے، اس لیے سپریم کورٹ کے موجودہ جج کی نگرانی میں آزادانہ جانچ کرائی جائے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیترا ٹرسٹ عطیات کی آمدنی اور اخراجات کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے پیش کرے اور ٹرسٹ کے عہدے داروں کی جواب دہی یقینی بنائی جائے۔
ہماچل پردیش میں وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو کی قیادت میں کانگریس رہنماؤں اور کارکنوں نے شملہ میں علامتی احتجاجی مارچ کیا۔ احتجاج کے بعد انہوں نے رام مندر میں پوجا اور ہون میں شرکت کی۔ سکھو نے کہا کہ لاکھوں عقیدت مندوں نے اپنی استطاعت کے مطابق مندر کی تعمیر کے لیے چندہ دیا تھا، اس لیے اگر عطیات میں بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس سے کروڑوں لوگوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عقیدے کے ساتھ کسی بھی قسم کا کھلواڑ ناقابل قبول ہے اور ذمہ دار افراد کا احتساب ہونا چاہیے۔
کانگریس نے الزام عائد کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے مذہبی عقیدت کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کیا ہے، جبکہ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس کی یہ احتجاجی مہم اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ جانچ، ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی اور عوامی اعتماد کی بحالی کو یقینی نہیں بنایا جاتا۔
