
ایمینوئل میکروں/ڈونالڈ ٹرمپ (فائل)، تصویر ’فیس بُک‘
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جی-7 چوٹی کانفرنس چھوڑنے کی خبروں کے درمیان ایک بڑا بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے اپنے میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں فرانسیسی صدر ایمینوئل میکروں کی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہرت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے (میکروں) غلط طریقے سے کہا کہ میں کینیڈا میں ہو رہے جی-7 چوٹی کانفرنس سے اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر کام کرنے کے لیے واشنگٹن ڈی سی لوٹ رہا ہوں۔
Published: undefined
ٹرمپ نے آگے کہا، ’’میکروں کی سمجھ غلط ہے، انہیں بالکل بھی اندازہ نہیں ہے کہ میں اب واشنگٹن کیوں جا رہا ہوں، ایران-اسرائیل جنگ بندی سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ بات اس سے کہیں بڑی ہے۔ چاہے جان بوجھ کر ہو یا غلطی سے، ایمینوئل ہمیشہ غلط ہی سمجھتے ہیں۔‘‘
Published: undefined
ٹرمپ نے جی-7 سمٹ کے دوران گروپ کی اہمیت کو لے کر بھی سوال کھڑے کیے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں روس کو جی-7 سے نکالنا غلط تھا، جس سے دنیا عدم استحکام کا شکار ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ چین کو جی-7 میں شامل کرنا چاہیے۔
Published: undefined
اس درمیان نیوز ایجنسی رائٹرس کی طرف سے بھی بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نیشنل سیکوریٹی کاؤنسل (این ایس سی) کو وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں تیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ قدم انہوں نے کینیڈا میں ہو رہے جی-7 سمٹ سے پیر کی رات ٹرمپ کی جلدی واپسی کے فیصلے سے جوڑا ہے۔
Published: undefined
فی الحال وائٹ ہاؤس کی طرف سے کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ صدر ٹرمپ کی جی-7 سمٹ سے فوری واپسی کی کیا وجہ ہے۔ لیکن سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ امریکی ٹیرف پالیسی، مشرق وسطیٰ کے حالات یا کوئی قومی سلامتی سے جڑا معاملہ ہو سکتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز