’بدنام زمانہ ایپسٹین کے ساتھ مرکزی وزیر ہردیپ پوری کے تھے گہرے روابط‘، کانگریس کے نئے انکشافات سے سیاسی ہلچل بڑھی

پون کھیڑا نے کہا کہ مرکزی وزیر ہردیپ پوری نے ایپسٹین سے 4-3 ملاقاتوں کی بات کہی، جبکہ ان کے درمیان 62 ای میل کیے گئے اور 14 ملاقاتوں کے ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>پریس کانفرنس کرتے ہوئے کانگریس ترجمان پون کھیڑا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: کانگریس نے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری اور بدنام زمانہ جنسی مجرم ایپسٹین کے درمیان گہرے روابط سے متعلق کچھ نئے انکشافات کیے ہیں، جس نے سیاسی ہلچل بڑھا دی ہے۔ کانگریس نے انکشاف کیا ہے کہ ہردیپ پوری اور ایپسٹین کے درمیان 2014 سے 2017 کے درمیان گہرے تعلقات تھے اور نریندر مودی کے وزیر اعظم کی شکل میں حلف لینے کے 20 دنوں کے اندر ہی ان کی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

’بدنام زمانہ ایپسٹین کے ساتھ مرکزی وزیر ہردیپ پوری کے تھے گہرے روابط‘، کانگریس کے نئے انکشافات سے سیاسی ہلچل بڑھی

کانگریس ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے میڈیا و پبلسٹی محکمہ کے چیئرمین و ترجمان پون کھیڑا نے ہردیپ سنگھ پوری کے حالیہ انٹرویو کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہردیپ پوری نے ایپسٹین کےس اتھ صرف 4-3 ملاقاتوں کی بات کہی ہے، جبکہ ان کے درمیان 62 ای میل کیے گئے اور 14 ملاقاتوں کے دستاویزی ثبوت سامنے آئے ہیں۔

’بدنام زمانہ ایپسٹین کے ساتھ مرکزی وزیر ہردیپ پوری کے تھے گہرے روابط‘، کانگریس کے نئے انکشافات سے سیاسی ہلچل بڑھی

پون کھیڑا نے پریس کانفرنس کے دوران ہردیپ پوری اور مودی حکومت سے کئی تلخ سوالات بھی پوچھے۔ انھوں نے سوال کیا کہ ہردیپ پوری 17-2014 کے درمیان ایپسٹین سے بار بار کیوں مل رہے تھے؟ وزیر اعظم کی حلف برداری کے فوراً بعد ہی یہ رابطہ کیوں شروع ہوا؟ جب 2014 میں ہردیپ پوری حکومت کا حصہ نہیں تھے، تو وہ کس حیثیت سے ایپسٹین کے ساتھ حکومت ہند کی پالیسیوں اور سرکاری اعلانات کے 8 ماہ قبل ہی ’ڈیجیٹل انڈیا‘ جیسے پروجیکٹس پر گفتگو کر رہے تھے؟ انھوں نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا وزیر اعظم نے ’ڈیجیٹل انڈیا‘ کے بارے میں ہندوستانی عوام سے پہلے ایپسٹین کو بتانے کی ہدایت دی تھی؟ کس کے دباؤ میں ہردیپ پوری نے سزا یافتہ مجرم ایپسٹین کے ساتھ تعلقات بنائے رکھے؟ کیا ہندوستان کی خارجہ و دفاعی پالیسی میں ایپسٹین گروہ کی مداخلت تھی؟

’بدنام زمانہ ایپسٹین کے ساتھ مرکزی وزیر ہردیپ پوری کے تھے گہرے روابط‘، کانگریس کے نئے انکشافات سے سیاسی ہلچل بڑھی

کانگریس ترجمان نے ایپسٹین سے رشتوں کا حوالہ دیتے ہوئے ارب پتی بل گیٹس کے ہندوستان میں منعقد ہو رہے اے آئی سمٹ میں شامل ہونے پر بھی سوال کھڑے کیے۔ انھوں نے کہا کہ مودی حکومت بل گیٹس سے بھی ڈرتی ہے، اس لیے ذرائع کے حوالہ سے کہہ رہی ہے کہ گیٹس کو دیا گیا دعوت نامہ واپس لے لیا گیا ہے، جبکہ خود بل گیٹس کہہ رہے ہیں کہ وہ تقریب میں شامل ہوں گے اور تقریر بھی کریں گے۔ کانگریس لیڈر نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت ایپسٹین کے متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے، تو اسے ذرائع کے حوالہ سے کچھ کہنے کی کیا ضرورت ہے؟ انھوں نے کہا کہ پیر کے روز آندھرا پردیش میں وزیر اعلیٰ بل گیٹس کا استقبال کر رہے تھے اور 2 دن قبل نریندر مودی کے ذریعہ ہردیپ پوری کو یومِ پیدائش کی نیک خواہش پیش کی جا رہی تھیں۔ یعنی بی جے پی اور اس کے ساتھی سبھی کو کلین چٹ دینے کا کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا اقبال مٹی میں مل چکا ہے، وہ ایپسٹین کے گروہ کے لوگوں سے ڈرتے ہیں۔

’بدنام زمانہ ایپسٹین کے ساتھ مرکزی وزیر ہردیپ پوری کے تھے گہرے روابط‘، کانگریس کے نئے انکشافات سے سیاسی ہلچل بڑھی

پون کھیڑا نے میڈیا اہلکاروں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ہردیپ پوری لنکڈ اِن کے بانی ریڈ ہاف مین کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان کا جھوٹ ظاہر ہو رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ہردیپ پوری ہمیشہ جیفری ایپسٹین کو ہی میل بھیجتے تھے اور اس کی کاپی ہاف مین کو بھیج دیتے تھے۔ ایپسٹین کے ذریعہ ہاف مین کو بھیجی گئی ایک ای میل کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ اس میں ہردیپ پوری کو ’یور مین اِن انڈیا‘ یعنی ’ہندوستان میں آپ کا آدمی‘ بتایا گیا۔ کھیڑا نے الزام عائد کیا کہ پوری ایپسٹین کے کہنے پر میٹنگ منعقد کر رہے تھے اور ہندوستان میں خارجہ پالیسی پر اثر ڈال رہے تھے۔ پوری نے پہلے کہا کہ ان کا تعارف ریڈ ہاف مین سے کسی دیگر نے کرایا، جبکہ بعد میں خود اعتراف کیا کہ ملاقات ایپسٹین کے ذریعہ ہی ہوئی تھی۔

پون کھیڑا نے مودی حکومت سے یہ تلخ سوال بھی پوچھا کہ کیا ’ایپسٹین فائلز‘ کی وجہ سے ہی امریکہ کے ساتھ ہوئے تجارتی معاہدہ میں مودی حکومت نے سرینڈر (خود سپردگی) کر دیا؟ کیا اسی لیے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بار بار ہندوستان کی بے عزتی کر رہے ہیں؟ کیا اسی وجہ سے مودی حکومت خاموش رہتی ہے؟ کیا راز افشا ہونے کے خوف سے مرکزی وزیر ہردیپ پوری کا استعفیٰ نہیں لیا جا رہا ہے؟

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔