رنجی میں محمد شامی کی کیئر بیسٹ کارکردگی، بندے کے پاس بی سی سی آئی کانٹریکٹ نہیں، لیکن عزائم بھرپور ہیں

میڈیا رپورٹس کے مطابق سلیکشن کمیٹی کی بے رخی کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ گزشتہ جون-جولائی میں انگلینڈ کے دورے پر ٹیسٹ سیریز کے لیے بورڈ کی پیشکش کے باوجود شامی آمادہ نہیں تھے۔

<div class="paragraphs"><p>محمد شامی (فائل تصویر)، ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/MdShami11">@MdShami11</a></p></div>
i
user

گوتم بھٹاچاریہ

کولکاتا میں جاری ’ٹی-20 عالمی کپ‘ کی ہلچل سے دور ہونے کے باوجود محمد شامی نے 17 فروری کو ایک بار پھر ہندوستانی کرکٹ حلقوں میں خود کو موضوعِ گفتگو بنا لیا۔ رنجی ٹرافی کے سیمی فائنل میں بنگال کی جانب سے جموں و کشمیر کے خلاف انھوں نے اپنے کیریئر کی بہترین گیند بازی کر سبھی کو حیران کر دیا۔ 22.1 اوور، 3 میڈن، 90 رن کے عوض 8 وکٹ لینا محض شاندار کارکردگی نہیں ہے، بلکہ ان کی بلند معیار گیندبازی کے مطابق بھی غیر معمولی تھی۔ حالانکہ اس کارکردگی کے باوجود ہندوستانی ٹیم میں ان کی واپسی کا امکان کم ہے۔

بمشکل 10 روز قبل 26-2025 کے لیے بی سی سی آئی کے سنٹرل کانٹریکٹس کی فہرست سے 35 سالہ کھلاڑی کو خارج کر دیا گیا، جو اس اعتبار سے قابل فہم تھا کہ کسی کرکٹر کے لیے گزشتہ 12 ماہ میں کم از کم ایک فارمیٹ میں بین الاقوامی کرکٹ کھیلنا ضروری ہوتا ہے۔ شامی نے آخری بار ہندوستانی جرسی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں دبئی میں پہنی تھی، جہاں جسپریت بمراہ کی غیر موجودگی میں انہوں نے 5 میچوں میں 9 وکٹیں لے کر ٹیم کے سب سے کامیاب گیندباز کا اعزاز حاصل کیا اور خطاب جیتنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔


اس کے بعد ایسا کیا ہوا کہ شامی، جو ایک ’کلاسیکی فنکار‘ ہیں اور جنہیں کیریئر طول دینے کے لیے بس تھوڑی سی نگہداشت درکار تھی، اچانک بحث سے ہی باہر ہو گئے؟ اس معاملہ میں آسٹریلیا سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے جس نے مشیل اسٹارک، پیٹ کمنز اور جوش ہیزل ووڈ کی 3 رکنی جوڑی کے کیریئر کو سنبھالنے کی کوشش کی ہے، باوجود اس کے کہ ان میں سے 2 اپنی 30 کی درمیانی دہائی میں ہیں۔ یا پھر اس سے سبق لینا چاہیے کہ کس طرح انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ جیمز اینڈرسن کو خصوصی رعایت دی۔

یاد رہے کہ آسٹریلیا پرانے خون کو رخصت کرنے میں بے لاگ سمجھا جاتا ہے، لیکن اس نے ’بگ تھری‘ کو باری باری استعمال کرنے میں فائدہ دیکھا، حتیٰ کہ مشیل اسٹارک نے خود کو ٹی-20 کی مشقت سے الگ رکھا۔ اگر بی سی سی آئی بمراہ کے ورک لوڈ مینجمنٹ پر اتنی توجہ دے سکتا ہے اور وراٹ کوہلی اور روہت شرما جیسے بڑے ناموں کو نمایاں میچ پریکٹس کی کمی کے باوجود ایک فارمیٹ تک محدود کھیلنے کی گنجائش دے سکتا ہے، تو پھر اختیار رکھنے والوں کو (صرف اجیت اگرکر کو نشانہ بنانا مناسب نہیں) ایک مخصوص کردار تخلیق کرنے سے کس نے روکا؟


میڈیا رپورٹس کے مطابق سلیکشن کمیٹی کی بے رخی کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ گزشتہ جون-جولائی میں انگلینڈ کے دورے پر ٹیسٹ سیریز کے لیے بورڈ کی پیشکش کے باوجود شامی آمادہ نہیں تھے۔ 2023 میں ہندوستانی سرزمین پر ہونے والے آئی سی سی ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ 24 وکٹیں (صرف 7 میچوں میں) لینے والے اس تیز گیندباز نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ ریڈ بال کرکٹ کے لیے مکمل فٹنس حاصل کرنے میں انہیں مزید وقت درکار ہے۔ نہ شامی نے اس کی تصدیق کی اور نہ ہی بی سی سی آئی نے وضاحت کی، لیکن ایک پیشہ ور ایتھلیٹ اپنی فٹنس کا بہترین منصف خود ہوتا ہے۔

اگر مسئلہ یہ تھا کہ 15 برس سے زائد کے زخمیوں سے متاثر لیکن شاندار کیریئر کے حامل اس تجربہ کار گیندباز نے آخری موقع سے گریز کیا، تو شامی اپنے ناقدین کو غلط ثابت کر چکے ہیں۔ گزشتہ اکتوبر سے وہ بنگال کے لیے اپنی روایتی تیز گیندبازی اور سوئنگ کے امتزاج کے ساتھ بھرپور کارکردگی دکھا رہے ہیں اور ابھیمنیو ایشورن وغیرہ کے لیے خاموش بزرگ رہنما کا کردار ادا کر رہے ہیں۔


اگرچہ دوسری اننگ میں بنگال کی بلے بازی نے 3 سیزن بعد رنجی ٹرافی فائنل میں رسائی کے امکانات کو خطرے میں ڈال دیا ہے، لیکن شامی کے کردار سے انکار ممکن نہیں۔ جموں و کشمیر کی پہلی اننگ کے بعد انہوں نے 12 اننگ میں 2.71 کی اکانومی ریٹ سے 36 رنجی وکٹیں حاصل کیں، جو اس سیزن میں رنجی، وجے ہزارے اور سید مشتاق علی ٹرافی سمیت مجموعی 67 وکٹوں کا نصف سے زیادہ ہیں۔

کلیانی کے پُرسکون بنگال کرکٹ اکیڈمی گراؤنڈ میں پیر اور منگل کو ان کی یہ غیر معمولی کارکردگی قومی میڈیا میں ہلچل کا باعث بنی ہے، جہاں اسے اگرکر اینڈ کمپنی کے لیے ایک مضبوط ’اپڈیٹ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ آئی پی ایل کے بعد سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز اور اس کے بعد انگلینڈ کا وائٹ بال دورہ طے ہے، اس لیے شامی سے متعلق اگر سلیکٹرس کی رائے میں تبدیلی آئے تو مواقع کی کمی نہیں۔


بہرحال، تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کے پاس تیز گیند بازی کے ذخائر بلے بازوں کی طرح وافر نہیں۔ بمراہ کے معاملے کو چھوڑ بھی دیں تو حکمت عملی بنانے والے بارہا محمد سراج پر انحصار کرتے رہے ہیں، جبکہ ہرشت رانا (جو ایک انوکھی چوٹ کے باعث جاری ٹی-20 عالمی کپ سے باہر ہو گئے) ابھی ڈیولپمنٹ کے مراحل میں ہیں۔ ارشدیپ سنگھ ٹی-20 انٹرنیشنل میں ہندوستان کے سب سے زیادہ وکٹ لینے والے گیندباز ہونے کے باوجود ٹیم مینجمنٹ کا مکمل اعتماد حاصل نہیں کر سکے، جبکہ پرشدھ کرشنا کبھی غیر معمولی تو کبھی مایوس کن نظر آئے ہیں۔ ایسے حالات میں کیا شامی کے لیے دوسرے موقع کی توقع بہت زیادہ ہے؟ یا انہیں دیوار پر لکھی تحریر پڑھ کر آگے بڑھ جانا چاہیے؟

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔