اتراکھنڈ: فائر سیزن کے شروعاتی 2 دنوں میں ہی محکمہ جنگلات کو موصول ہوئے 80 سے زائد ’فائر الرٹ‘
مانسون شروع ہونے تک محکمہ جنگلات کے سامنے سب سے بڑا چیلنج جنگلات کو آگ سے محفوظ رکھنا ہے۔ کیونکہ رواں سال سردیوں میں بارش اور برف باری کی کمی کے باعث جنگلات میں نمی کی کافی کمی ہے۔

اتراکھنڈ میں آفیشل فائر سیزن شروع ہوتے ہی جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات سامنے آنے لگے ہیں۔ 15 فروری سے 15 جون تک چلنے والے فائر سیزن کے پہلے مرحلہ سے قبل ریاست کے 42 ہیکٹر سے زائد جنگل کے علاقے میں آگ لگنے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ پہلے 2 دنوں میں ہی محکمہ جنگلات کو 80 سے زائد مقامات سے فائر الرٹ موصول ہوئے، جس کی وجہ سے محکمہ کی تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔
محکمہ جنگلات کے مطابق نومبر 2025 سے اب تک 54 مقامات پر آگ کے معاملات درج کیے گئے ہیں، جن میں 42 ہیکٹر سے زائد جنگل متاثر ہوئے۔ حالانکہ محکمہ کا کہنا ہے کہ تمام الرٹ حقیقی نہیں ہوتے۔ نومبر 2025 سے جنوری 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 1957 فائر الرٹ موصول ہوئے، جن میں سے صرف 132 (تقریباً 6.75 فیصد) واقعات میں ہی حقیقت میں جنگل کی آگ پائی گئی۔
رواں سال سردیوں میں کم بارش اور برف باری ہونے کی وجہ سے جنگلوں میں نمی کی کمی ہے، جس کے سبب آگ پھیلنے کا خطرہ زیادہ بنا ہوا ہے۔ 2024 میں اتراکھنڈ جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات کے معاملے میں ملک میں سرفہرست تھا۔ اس کے بعد روک تھام کے لیے کئی قدم اٹھائے گئے، لیکن حالات اب بھی چیلنجنگ ہے۔
فائر سیزن کے پہلے روز الموڑا ضلع کے لمگڑا علاقہ کے سلکھوڑ اور حوال باغ کے بجیوڑا کے جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ حالانکہ محکمہ کی ویب سائٹ پر پہلے روز کسی بھی ڈویژن میں جنگل میں آگ لگنے کا معاملہ درج نہیں کیا گیا ہے۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ کئی الرٹ تکنیکی خرابیوں یا دیگر وجوہات سے بھی مل جاتے ہیں، جنہیں جانچ کے بعد مسترد کر دیا جاتا ہے۔ چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ (ڈیزاسٹر اینڈ فارسٹ فائر مینجمنٹ) سشانت پٹنائک نے بتایا کہ فائر الرٹ ملنے پر فوراً ایک ٹیم کو موقع پر بھیجا جاتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ محکمہ جنگلات کی آگ پر قابو پانے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور فائر نگہبانوں (فائر واچرز) کی بھرتی بھی مکمل کر لی گئی ہیں۔
ماہرین نے جنگل کی آگ کو روکنے کے لیے کئی مشورے دیے ہیں۔ ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ جنگل کے علاقوں کے آس پاس ہوٹل اور ریزورٹس میں بون فائر اور کیمپ فائر پر سختی ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی جنگلات کے اہلکاروں کو بھی چاہیے کہ وہ باقاعدہ نگرانی میں اضافہ کریں اور دیہی باشندوں کے ساتھ تال میل کو مضبوط کریں۔ قابل ذکر ہے کہ مانسون شروع ہونے تک محکمہ جنگلات کے سامنے سب سے بڑا چیلنج جنگلات کو آگ سے محفوظ رکھنا ہے۔ مسلسل بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے درمیان یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ اس بار محکمہ آگ کے واقعات پر کس حد تک مؤثر انداز میں قابو پاتا ہے۔