
ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای / آئی اے این ایس
یورپی یونین کے بعد اب برطانیہ نے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ (آئی آر جی سی) پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کا مطلب ہے کہ برطانیہ بھی آئی آر جی سی کو ایک دہشت گرد تنظیم تسلیم کرے گا۔ برطانیہ سے قبل امریکہ سمیت 34 ممالک آئی آر جی سی کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔ واضح رہے کہ 1979 میں ایران میں اسلامی انقلابی گارڈ کا قیام عمل میں آیا تھا، یہ فوج سے الگ ہٹ کر کام کرتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد ایران میں اسلامی حکومت کو برقرار رکھنا ہے۔ امریکہ اور یورپی ممالک اسے خطرناک دہشت گرد تنظیم مانتے ہیں۔ اس کے علاوہ آسٹریلیا، سعودی عرب اور بحرین جیسے ممالک بھی اسلامی انقلابی گارڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔
Published: undefined
محقق مارک ڈی سلنسک کے مطابق جب آیت اللہ خمینی نے ایران کی کمان سنبھالی تو انہوں نے ایک ایسی تنظیم بنانے کا فیصلہ کیا جو نظریات کے لیے کام کرے۔ اسی کے پیش نظر آئی آر جی سی کا قیام عمل میں آیا۔ خمینی کا کہنا تھا کہ آئی آر جی سی کا کام لوگوں کو نظریات سے جوڑنا ہوگا، انہی نظریات کی بدولت ایران کا دفاع کیا جا سکتا ہے۔ خمینی اس مقصد میں کامیاب بھی ہو گئے۔ فی الحال آئی آر جی سی میں 2 کروڑ سے زائد لوگ رضاکارانہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ حالانکہ آفیشل اعداد و شمار میں کہا گیا ہے کہ اسلامی انقلابی گارڈ کے پاس صرف 1.5 لاکھ جوان ہیں۔
Published: undefined
برطانوی پارلیمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کا بنیادی کام پوری دنیا میں اسلامی نظریات کے متعلق لوگوں کو متشدد بنانے کا ہے۔ آئی آر جی سی اس کے لیے نئے لوگوں کو ٹرینڈ کرتی ہے، یہ یورپ اور امریکہ کے لیے خطرہ ہے، کیونکہ دونوں ہی جگہوں پر عیسائیوں کی آبادی زیادہ ہے۔
1990 میں سرد جنگ کے وقت ایران نے مشرق وسطیٰ سے امریکہ اور یورپ کے تسلط کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے لیے مشرق وسطیٰ میں آئی آر جی سی نے حوثی، حزب اللہ، کتائب اور حماس جیسی پراکسی تنظیمیں بنائیں۔ ان تنظیموں کی وجہ سے امریکہ اور یورپ کی حمایت یافتہ ممالک کو کافی نقصان ہوا۔
آئی آر جی سی کے رہتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور یورپ کا تسلط قائم نہیں ہو پا رہا ہے۔ تجارت کے پیش نظر مشرق وسطیٰ کافی اہم ہے۔ اسے یورپ، افریقہ اور ایشیا کا سنگم مانا جاتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں تیل اور توانائی کے دنیا کے سب سے بڑے ذخائر ہیں۔
2001 کے بعد امریکہ نے عراق اور افغانستان میں داخلے کی کوشش کی۔ دونوں ہی ممالک ایران کے پڑوس میں موجود ہے۔ دونوں ہی جگہوں سے امریکہ کو بھگانے میں اسلامی انقلابی گارڈ نے اہم کردار ادا کیا۔ اس وقت آئی آر جی سی کی کمان قاسم سلیمانی کے پاس تھی۔
اسلامی انقلابی گارڈ کے ایجنٹ امریکہ میں بھی فعال ہیں۔ 2024 میں انتخابی تشہیر کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ پر حملہ ہوا تھا۔ اس حملے کے لیے امریکی خفیہ ایجنسی نے ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ حال ہی میں ایران کی سرکاری ٹی وی نے حملہ سے منسلک کچھ فوٹیج جاری کیے تھے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: محمد تسلیم