’125 دن کا جھوٹا شور، مودی حکومت منریگا چور‘، منریگا کو بچانے کے لیے کانگریس کی ملک گیر مہم جاری

کانگریس ملک کی مختلف ریاستوں میں روزانہ منریگا کو بچانے کے لیے احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی منریگا میں کی گئی تبدیلیوں کے خلاف مستقل آواز اٹھائی جا رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>منریگا بچاؤ سنگرام، تصویر @INCIndia</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس کے ذریعہ ملک گیر سطح پر جاری ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ زور و شور سے جاری ہے۔ آج ملک کی راجدھانی دہلی کے ساتھ ساتھ پنجاب، ہماچل پردیش، مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں میں کانگریس لیڈران و کارکنان کے ساتھ ساتھ عوام نے سڑکوں پر نکل کر مودی حکومت کے نئے قانون ’جی رام جی‘ کے خلاف آواز اٹھائی۔ دہلی کی سڑکوں پر کانگریس کے سرکردہ لیڈران ’125 دن کا جھوٹا شور، مودی حکومت منریگا چور‘ اور ’منریگا چور، گدی چھوڑ‘ جیسے نعرے لکھے پلے کارڈس ہاتھوں میں لیے ہوئے تھے۔

کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے دہلی میں منریگا کو بچانے کے لیے نکالی گئی ریلی کے دوران عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’مودی حکومت نے بلڈوزر چلا کر منریگا ایکٹ کو رَد کر دیا۔ منریگا تاریخی اور انقلابی قانون تھا جو ستمبر 2025 کو اتفاق رائے سے پاس ہوا تھا۔ اس ایکٹ کو بنانے میں سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ، سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کا اہم کردار تھا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’منریگا قانون آئینی حق تھا، لوگوں کے پاس روزگار کی قانونی گارنٹی تھی۔ اس قانون سے پنچایتیں مضبوط ہوئیں۔ ہر کنبہ کو پہلی بار ڈی بی ٹی کے ذریعہ سے پیسہ پہنچایا گیا۔ لیکن یہ قانون رد کر دیا گیا، کیونکہ نریندر مودی نہیں چاہتے ہیں کہ مہاتما گاندھی جی سے جڑا ہوا یہ قانون زیادہ وقت تک چلے۔ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ لوگوں کو ان کا حق ملے۔‘‘


کانگریس درج فہرست ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین ایڈووکیٹ راجندر پال نے بھی دہلی میں ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ میں حصہ لیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’منریگا کا صرف نام ہی نہیں بدلا گیا، اس نئے قانون میں پنچایتوں کی طاقت چھین لی گئی، منصوبہ کا 40 فیصد بوجھ ریاستی حکومتوں پر ڈال دیا گیا۔ منریگا سے مزدور اور غریب مضبوط ہوئے تھے، لیکن نریندر مودی نے اس قانون کا قتل کر دیا۔‘‘ انھوں نے یہ سوال بھی کیا کہ ’’کیا مودی حکومت صرف سرمایہ کاروں کے لیے کام کرے گی؟ کیا ملک کی باقی عوام ان کی نظر میں شہری نہیں ہے؟‘‘

ہماچل پردیش میں مودی حکومت کے نئے قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرہ میں وزیر اعلیٰ سکھوندر سکھو کے ساتھ ساتھ ریاستی انچارج رجنی پاٹل اور کانگریس ریاستی صدر ونے کمار کے ساتھ ساتھ دیگر سینئر لیڈران بھی موجود تھے۔ اس احتجاجی مظاہرہ کی کچھ تصویریں کانگریس نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہیں۔ اس پوسٹ میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’منریگا صرف ایک منصوبہ نہیں، دیہی ہندوستان میں محنت، وقار اور خود مختاری کی شناخت ہے، جسے نریندر مودی تباہ کرنے پر آمادہ ہیں۔ ایسے میں منریگا کو بچانا ہم سبھی کی ذمہ داری ہے۔‘‘ کانگریس نے یہ بھی بتایا کہ اسی مقصد کے لیے آج ہماچل پردیش کے کانگریس کارکنان نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے سامنے ’مون ورَت‘ (خاموشی کا روزہ) اختیار کر پُرامن مظاہرہ کیا۔


قابل ذکر ہے کہ کانگریس ملک کی مختلف ریاستوں میں روزانہ منریگا کو بچانے کے لیے احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی منریگا میں کی گئی تبدیلیوں کے خلاف مستقل آواز اٹھائی جا رہی ہے اور عوام سے بھی اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ کانگریس کی اس مہم سے جڑیں۔ اس کے لیے موبائل نمبر اور کیو آر کوڈ بھی کانگریس نے جاری کیا ہوا ہے، جس سے عوام بہ آسانی اس مہم سے جڑ سکتے ہیں اور منریگا کو بچانے میں اپنا تعاون پیش کر سکتے ہیں۔

’125 دن کا جھوٹا شور، مودی حکومت منریگا چور‘، منریگا کو بچانے کے لیے کانگریس کی ملک گیر مہم جاری

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔