نپاہ وائرس: وہم یا حقیقت، موت کا قہر پہلی بار کہاں ہوا تھا برپا؟
جان لیوا وائرس ’نپاہ‘ کا پہلا معاملہ 99-1998 میں ملیشیا میں سامنے آیا تھا۔ ملیشیا کے ’سُنگئی نپاہ‘ نامی گاؤں میں سب سے پہلے اس کے مریض ملے تھے، اسی وجہ سے اس وائرس کا نام ’نپاہ‘ رکھا گیا۔

نپاہ وائرس کا خوف ایک بار پھر پھیلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، حالانکہ فی الحال اموات کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے۔ یہ ایک مہلک وائرس ہے جس نے مغربی بنگال میں 2 طبی اہلکاروں کو موت کی نیند سلا کر لوگوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ یہ وائرس پوری دنیا میں اپنا قہر دکھائے، اس سے پہلے ہی تمام ممالک کی حکومتیں محتاط ہو گئی ہیں۔ یہ وائرس اتنا خطرناک ہے کہ اس سے بچاؤ ہی اس کا سب سے بڑا علاج تصور کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں چین کی ایک دوا کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس سے نپاہ انفیکشن کو روکا جا سکتا ہے، حالانکہ اس سلسلے میں مصدقہ طور پر فی الحال کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔
ہندوستان میں نپاہ وائرس کی تازہ ہلچل کو دیکھتے ہوئے پڑوسی ممالک کے ساتھ پورے ایشیا میں اسکریننگ کے ساتھ چوکسی شروع کر دی گئی ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ اس وائرس کی خوفناکی حقیقت ہے یا محض وہم؟ ہندوستان کے علاوہ کن ممالک میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے اور اس مہلک وائرس کی ابتدا سب سے پہلے کہاں سے ہوئی تھی؟
کن ممالک میں ہائی الرٹ جاری ہوا؟
نپاہ انفیکشن کے پھیلاؤ کی شروعات جنوبی ہندوستان سے ہوئی تھی، جہاں سب سے پہلے 2 نرسیں اس انفیکشن سے متاثر پائی گئی تھیں۔ اس کے بعد کئی لوگوں کو کوارنٹائن میں رکھا گیا، کیونکہ یہ وائرس کورونا کی طرح پھیلتا ہے۔ ہندوستان کے بعد ایشیا کے ہوائی اڈوں پر اسکریننگ شروع کی گئی۔ اب بنگلہ دیش، ویتنام، ملیشیا، سنگاپور اور تھائی لینڈ میں بھی اس خطرناک وائرس کے خلاف چوکسی کے لیے الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
موجودہ حالات نے لوگوں کے ذہنوں میں کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا کورونا کی طرح سب کچھ بند ہو جائے گا؟ اس کا جواب آپ خود اس وائرس کی خطرناکی کو دیکھتے ہوئے تلاش کر سکتے ہیں۔ تاہم اگر مکمل احتیاط برتی جائے تو اس کے خطرے کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ ویتنام کے کین تھو شہر کے محکمۂ صحت نے حال ہی میں ’کوئک رسپانس ٹیم‘ تشکیل دی ہے اور سرحدوں پر مشتبہ مریضوں کی 14 دن تک نگرانی کی ہدایات دی ہیں۔
موت کے اس وائرس کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟
اس جان لیوا وائرس کا پہلا معاملہ 99-1998 میں ملیشیا میں سامنے آیا تھا۔ ملیشیا کے ’سُنگئی نپاہ‘ نامی گاؤں میں سب سے پہلے اس کے مریض ملے تھے، اسی وجہ سے اس وائرس کا نام ’نپاہ‘ رکھا گیا۔ ابتدا میں یہ وائرس خنزیروں کے ذریعہ انسانوں تک پہنچا تھا، لیکن بعد میں سائنس دانوں نے پایا کہ یہ ’فروٹ بیٹس‘ (پھل کھانے والے چمگادڑ) سے انسانوں تک منتقل ہوتا ہے۔
وہم یا حقیقت؟ کیا یہ وائرس بڑا خطرہ ہے؟
اس وائرس سے متعلق جو خوف ہے، اسے وہم قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ اس وائرس نے اپنی تباہی کے اثرات قبل میں چھوڑ رکھے ہیں۔ یہ واقعی نہایت جان لیوا وائرس ہے۔ اس کی اموات کی شرح 75 فیصد ہے، جو براہ راست اس کے خطرے کو ثابت کرتی ہے۔ یہ وائرس دماغ میں سوجن پیدا کرتا ہے، جس کی وجہ سے مریض سیدھا کوما میں چلا جاتا ہے۔ اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ یہ وائرس کورونا کی طرح ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔