مولانا محمود مدنی نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے نفرت انگیز بیان کو آئینی اقدار پر حملہ اور فاشزم قرار دیا
مولانا مدنی نے تمام آئینی اداروں، الیکشن کمیشن، عدلیہ اور سول سوسائٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے اپنا آئینی کردار ادا کریں تاکہ نفرت کے دشمنوں کو منھ کی کھانی پڑے۔

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما کے حالیہ بیان کو اوپن وائلنس کی تبلیغ، نفرت انگیزی اور آئینی اقدار پر براہِ راست حملہ قرار دیا ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ایک مخصوص برادری کو ہراساں کرنا، حق رائے دہی چھیننے کی دھمکی دینا اور معاشی استحصال پر اکسانا، کھلی فاشزم اور اجتماعی سزا دینے کی سوچ کا مظہر ہے، جس کی کسی بھی مہذب، جمہوری و آئینی ریاست میں گنجائش نہیں ہو سکتی۔
مولانا مدنی نے زور دیا کہ ایسے بیانات کو محض سیاسی بیان بازی اور الیکشن سے متعلق موقع پرستی سمجھ کر نظر انداز کرنا خود جمہوریت سے غداری ہوگی۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ان بیانات پر فوری ایف آئی آر درج ہو، اور یہ پیغام دیا جائے کہ ہندوستان میں کوئی بھی شخص نفرت پھیلانے کے لیے قانون سے بالاتر نہیں، اور نہ ہی کوئی منصب نفرت پھیلانے کا لائسنس بن سکتا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ کسی ریاست کا وزیر اعلیٰ اگر خود یہ اعلان کرے کہ وہ ایس آر کو ایک برادری کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، لوگوں کو جھوٹی شکایات، بے بنیاد اعتراضات اور جان بوجھ کر ہراسانی پر اُکسا رہا ہے، تو یہ ریاستی طاقت کا غلط استعما ل ہے، بلکہ کسی بھی کمیونٹی کے خلاف لوگوں کو اوپن وائلنس پر آمادہ کرنا ہے۔ اس سے پورا جمہوری نظام مشکوک ہو جاتا ہے۔
مولانا مدنی نے واضح کیا کہ جمعیۃ علماء ہند اس معاملے کو محض ایک ریاستی مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کی جمہوری صحت سے جڑا ہوا مسئلہ سمجھتی ہے۔ اگر آج ایک ریاست میں کسی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی اجازت دی گئی تو کل کوئی اور کمیونٹی اس کی شکار ہوگی ۔ مولانا مدنی نے تمام آئینی اداروں، الیکشن کمیشن، عدلیہ اور سول سوسائٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے اپنا آئینی کردار ادا کریں تاکہ نفرت کے دشمنوں کو منھ کی کھانی پڑے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔