دیگر ممالک

ایران پر حملہ سے امریکہ کو خسارہ ہی خسارہ! 10 دنوں میں ہی صلح کا راستہ تلاش کرتے نظر آ رہے ٹرمپ

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ کے مشیروں کا کہنا ہے کہ ایران جنگ سے امریکہ کو کسی طرح کا معاشی یا فوجی فائدہ حاصل ہوتا فی الحال دکھائی نہیں دے رہا۔ جنگ کی طوالت سے ریپبلکن ووٹرس ناراض بھی ہو سکتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، اے آئی</p></div>

علامتی تصویر، اے آئی

 

ایران پر حملہ کے 10 دنوں بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مشیروں نے ان سے ’صلح کا راستہ‘ تلاش کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان مشیروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ اگر طویل ہو جاتی ہے تو اس کا براہ راست نقصان امریکہ کو ہوگا۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ٹرمپ اپنے بیانات میں اس جنگ کے طویل ہونے کا اشارہ دے چکے ہیں۔ ایک بیان میں تو انھوں نے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ جنگ 3 سے 4 ہفتوں تک چل سکتی ہے۔ اب امریکہ کو اس جنگ میں صرف خسارہ ہی خسارہ دکھائی دے رہا ہے، اس لیے ’صلح کا راستہ‘ اختیار کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔

Published: undefined

مشیروں نے ٹرمپ کی توجہ اس جنگ کے مضر اثرات کی طرف مبذول کرائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ زیادہ طویل ہونے سے حامی ووٹرس ناراض ہو سکتے ہیں۔ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہی ٹرمپ نے 10 مارچ کو ایک بیان دیا ہے، جس میں جنگ جلد ختم کیے جانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ بیان میں ٹرمپ نے ضرور ایران کو ہارا ہوا بتایا ہے، لیکن اس حقیقت سے سبھی واقف ہیں کہ ایران نے امریکہ کو خوب نقصان پہنچایا ہے۔

Published: undefined

وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق مشیروں نے ٹرمپ سے کہا ہے کہ ایران جنگ میں امریکہ کو کسی طرح کا معاشی یا فوجی فائدہ حاصل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ جنگ طوالت اختیار کرتی ہے تو ریپبلکن ووٹرس ہی ناراض ہو سکتے ہیں، جو وسط مدتی انتخاب (جو رواں سال کے آخر میں مجوزہ ہے) کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ جنگ کی ابتدا میں امریکہ کا مقصد ایران میں تختہ پلٹ کرنا تھا۔ اس کے لیے امریکہ نے جنگ کے دوسرے ہی دن ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا قتل کر دیا۔ ایران کے ٹاپ-40 کمانڈرس مار دیے گئے۔ ایرانی صدر اور وزیر خارجہ کو بھی مارنے کی کوششیں ہوئیں۔ اس کے باوجود ایران جنگ میں امریکہ سے لڑتا رہا۔ ایسو سی ایٹیڈ پریس کے مطابق امریکی قومی خفیہ کونسل نے تجزیہ کی بنیاد پر ایک رپورٹ امریکہ کو سونپی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ جس طریقے سے حملے کیے جا رہے ہیں، اس سے تختہ پلٹ نہیں ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اعلیٰ قیادت کی ہلاکت کے بعد بھی ایران کی عوام سڑکوں پر نہیں اتری، اس لیے تختہ پلٹ ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔

Published: undefined

اس درمیان ’کوئنی پیاک یونیورسٹی‘ کے ایک تازہ سروے میں 53 فیصد امریکی شہریوں نے ایران کے خلاف فوجی حملہ کی مخالفت کی ہے۔ سروے میں شامل 44 فیصد شہریوں کا ماننا ہے کہ اسرائیل کی حمایت امریکہ ضرورت سے زیادہ کر رہا ہے۔ حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک سوال کے جواب میں کہا بھی تھا کہ امریکہ نے اسرائیل کی وجہ سے ایران پر حملہ کیا۔

Published: undefined

توجہ طلب یہ ہے کہ ایران پر لگاتار ہو رہے حملوں کی وجہ سے امریکہ کا خرچ بھی لگاتار بڑھتا جا رہا ہے۔ ’واشنگٹن پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران پر حملہ کے لیے امریکہ نے ابتدائی 2 دنوں میں 5.6 بلین ڈالر کا گولہ بارود استعمال کیا تھا۔ اب ’انادولو‘ ایجنسی نے جانکاری دی ہے کہ جنگ کے 10 دنوں میں امریکہ 10 بلین ڈالر سے زیادہ کا پیسہ پھونک چکا ہے۔ انہی باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے مشیروں نے ٹرمپ سے کہا ہے کہ جنگ جتنی جلد ختم ہو، اتنا بہتر ہے۔

Published: undefined

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران کے سرکردہ لیڈران نے کچھ ایسے بیانات دیے ہیں، جو امریکہ اور اسرائیل سے بدلہ لینے کا عزم ظاہر کرتے ہیں۔ یعنی ایرانی قیادت فی الحال جنگ بندی کے بارے میں سوچ بھی نہیں رہی۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جو تازہ بیان دیا ہے، اس میں کہا ہے کہ امریکہ کو یہ غلط فہمی تھی کہ جنگ شروع ہوتے ہی ایران میں تختہ پلٹ ہو جائے گا، لیکن وہ اپنے منصوبہ کو کامیاب نہیں کر پائے۔ وہ ناکام ہو گئے۔ اب ’پلان بی‘ (جنگ جلد ختم کرنا) کے ذریعہ امریکہ جنگ کو جیتنا چاہتا ہے، لیکن اس میں بھی اسے کامیابی نہیں ملنے والی ہے۔ اس درمیان آئی آر جی سی کا بھی ایک بیان سامنے آیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایرانی فوج اب تک خلیج فارس خطہ میں امریکہ کے 10 بے حد جدید رڈار سسٹم تباہ کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ ساتھ ہی آئی آر جی سی نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ جنگ کا خاتمہ کب ہوگا، یہ واشنگٹن نہیں بلکہ تہران طے کرے گا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined