’ہم جنگ بندی نہیں چاہتے‘، امریکہ-اسرائیل کو سبق سکھانے کے لیے ایران پرعزم، اسرائیلی تیل-گیس ریفائنری پر حملہ
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ ایران نہیں چاہتا امریکہ و اسرائیل کے ساتھ بات چیت کر جنگ کو ختم کیا جائے۔ ہم یقیناً جنگ بندی کی تلاش میں نہیں ہیں۔

امریکہ و اسرائیل کے ذریعہ ایرانی علاقوں میں لگاتار ہو رہے حملوں کے باوجود ایران جنگ بندی کا خواہش مند دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ وہ امریکہ اور اسرائیل کو سبق سکھانے کے لیے پرعزم دکھائی دے رہا ہے۔ اس مقصد سے وہ مختلف ممالک میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور اسرائیل پر بھی میزائلیں داغ رہا ہے۔ اس معاملہ میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا ایک اہم بیان سامنے آیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ایران نہیں چاہتا امریکہ و اسرائیل کے ساتھ بات چیت کر جنگ کو ختم کیا جائے۔ ہم یقیناً جنگ بندی کی تلاش میں نہیں ہیں۔
یہ بیان محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر دیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ہم یقیناً جنگ بندی کی تلاش میں نہیں ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ جارح کو منھ پر گھونسا مار کر سبق سکھانا چاہیے، تاکہ وہ ہمارے پیارے ایران پر پھر کبھی حملہ کرنے کی سوچ بھی نہ پائے۔‘‘ قالیباف نے یہ بھی کہا کہ ایران جنگ، بات چیت، جنگ بندی اور پھر جنگ کے چکر کو توڑنا چاہتا ہے، کیونکہ یہ حکمت عملی اسرائیل اپنی بالادستی کو ظاہر کرنے کے لیے اختیار کرتا ہے۔
اس درمیان ایرانی افواج نے ایک بیان جاری کر کہا ہے کہ انھوں نے اسرائیل کے حائفہ شہر میں تیل اور گیس ریفائنری کے ساتھ ساتھ ایندھن ٹینکوں کے خلاف ڈرون و میزائل حملے کیے ہیں۔ اس حملہ کا مقصد بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یہ اسرائیل کے ذریعہ ان کے توانائی انفراسٹرکچر پر حملے کا جواب ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اس حملہ کو باجان گروپ کی ریفائنری پر نشانہ بنا کر کیا گیا، جو اسرائیل کا ایک بڑا تیل پروسیسنگ مرکز ہے۔ حالانکہ اسرائیل کی طرف سے اس معاملہ میں ایسی کوئی واضح جانکاری سامنے نہیں آئی ہے کہ حملہ کامیاب ہوا ہے یا نہیں، یا پھر اس میں کتنا نقصان ہوا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایران لگاتار اسرائیل کو میزائل و ڈرون سے نشانہ بنا رہا ہے، جس میں نقصانات بھی ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی وزارت صحت نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے سبب گزشتہ 24 گھنٹوں میں 191 لوگوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق اسپتال میں داخل ہونے والوں میں فوجی اور عام شہری دونوں شامل ہیں۔ ان میں ایک کی حالت انتہائی سنگین بتائی جا رہی ہے، جبکہ 3 دیگر زخمیوں کی حالت بھی نازک ہے۔ اس سے قبل پیر کے روز یہودی شہروں پر ایرانی میزائل حملوں میں ایک شخص کی موت کی جانکاری ملی تھی، جبکہ 2 دیگر زخمی ہوئے تھے۔ اس کی تصدیق ماگین ڈیوڈ ایڈوم ایمبولنس سروس نے کی تھی۔
مشرق وسطیٰ میں اس جنگ کی حالت نے کئی ممالک کو اثر انداز کیا ہے۔ ہنگری کی حکومت نے تو بڑھتی ایندھن قیمتوں کو دیکھتے ہوئے خام تیل، ڈیزل اور 95 آکٹون پٹرول کی برآمدگی پر روک لگا دی ہے۔ یہ جانکاری وزیر مالیات نے اپنے فیس بک پوسٹ میں دی۔ وزیر نے یہ بھی کہا کہ حکومت اپنے ریاستی ایندھن ذخیرہ سے 45 دنوں کا ایندھن جاری کرے گی تاکہ گھریلو ضرورتیں پوری ہو سکیں۔ اس سے پہلے ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے کہا تھا کہ ہنگری میں ایندھن کی قیمتوں پر حد طے کی جائے گی تاکہ صارفین اور کاروبار بڑھتی قیمتوں سے بچ سکیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔