ایران کے خلاف فوجی کارروائی چند دن میں ختم ہو سکتی ہے: ڈونالڈ ٹرمپ

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی میں امریکہ اور اسرائیل کو فیصلہ کن برتری حاصل ہے اور یہ لڑائی چند دن میں ختم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز پر ایران کو سخت کارروائی کی وارننگ بھی دی

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی میں امریکہ اور اسرائیل کو نمایاں برتری حاصل ہو چکی ہے اور یہ تنازع چند دن کے اندر ختم ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ وہ عالمی توانائی کی رسد میں خلل ڈالنے کی کوشش نہ کرے، ورنہ اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

میامی میں ٹرمپ نیشنل ڈورال میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی، جسے “آپریشن ایپک فیوری” کہا جا رہا ہے، حالیہ برسوں کے بڑے فوجی اقدامات میں شمار ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ نو دنوں کے دوران دنیا کے طاقتور اور پیچیدہ فوجی حملوں میں سے بعض کارروائیاں انجام دی گئی ہیں۔ ان کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس میں اس کی بحریہ، ڈرون ڈھانچہ اور میزائل لانچ نظام شامل ہیں۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحری قوت کا بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے اور اس کے تقریباً اکاون بحری جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق مسلسل حملوں کے باعث ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے اور اب اس کی میزائل صلاحیت تقریباً دس فیصد یا اس سے بھی کم رہ گئی ہے۔


انہوں نے بتایا کہ اب ایران میں ڈرون تیار کرنے والے مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان ٹھکانوں کی نشاندہی کر کے ایک ایک کر کے کارروائی کی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اس فوجی مہم کے دوران اب تک پانچ ہزار سے زیادہ اہداف پر حملے کیے جا چکے ہیں جن میں اسلحہ کے ذخیرے، میزائل لانچر اور پیداواری مراکز شامل ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے بی ٹو بمبار طیاروں نے بھی کئی اہم ہتھیاری نظام تباہ کیے ہیں۔ ان کے مطابق ان طیاروں نے دو ہزار پاؤنڈ وزنی بم گرا کر زمین کے اندر چھپائے گئے میزائل لانچروں کو بھی تباہ کیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ان کارروائیوں نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک دیا ہے۔ انہوں نے پہلے کیے گئے ’آپریشن مڈ نائٹ ہیمر‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کارروائی نہ کی جاتی تو ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہوتا۔

انہوں نے ایران کو آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنے سے بھی خبردار کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ عالمی توانائی کی رسد کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے اور اگر ایران نے وہاں کسی رکاوٹ کی کوشش کی تو مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکہ خلیج کے علاقے میں چلنے والے تجارتی تیل بردار جہازوں کے لیے سیاسی خطرات کے بیمہ کی سہولت بھی فراہم کرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اس تنازعہ کے دوران امریکہ کے آٹھ فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور ان کے اہل خانہ نے فوجی کارروائی جاری رکھنے کی اپیل کی ہے۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے پر ان کی روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے فون پر بات ہوئی جس میں یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔