امریکہ نے جنگ مسلط کی، مجبور کیا گیا تو لڑیں گے بھی: ایرانی وزارت خارجہ
ایران نے امریکی حملوں کو مسلط کردہ جنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسے لڑنے پر مجبور کیا گیا تو وہ بھرپور جواب دے گا۔ تہران نے جنگ کے خاتمے، پابندیاں ہٹانے اور آبنائے ہرمز میں امن کی مانگ دہرائی
تہران: ایران نے امریکی حملوں کو اپنے خلاف ’مسلط کردہ جنگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسے لڑنے پر مجبور کیا گیا تو وہ دفاع کے لیے ہر قدم اٹھائے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران ایک طرف سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے، لیکن قومی مفادات کے تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی کمزوری نہیں دکھائے گا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ جہاں ضرورت ہوگی وہاں سفارت کاری اور مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے گا، لیکن اگر ایران پر جنگ تھوپی گئی تو ملک اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ان کے مطابق سفارت کاری کے اپنے اصول ہوتے ہیں اور تہران ہر معاملے میں اپنے قومی مفاد کو ترجیح دے گا۔
انہوں نے اس امن تجویز کا بھی ذکر کیا جسے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مسترد کر دیا تھا۔ بقائی نے کہا کہ ایران کی پیش کردہ مانگیں مکمل طور پر معقول اور جائز تھیں۔ ان کے مطابق تہران صرف یہ چاہتا ہے کہ جنگ ختم ہو، اقتصادی پابندیاں ہٹائی جائیں، سمندری راستوں میں رکاوٹیں بند ہوں اور امریکی دباؤ کے تحت منجمد کی گئی ایرانی دولت واپس کی جائے۔
ایرانی ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے محفوظ آمد و رفت یقینی بنانا اور ایران و لبنان میں امن قائم کرنا تہران کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق یہ تجاویز پورے خطے میں استحکام پیدا کرنے کے لیے پیش کی گئی تھیں، لیکن امریکہ اب بھی یکطرفہ دباؤ کی پالیسی پر قائم ہے۔
انہوں نے چین کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ بھی یہ مانتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ دراصل امریکہ کے یکطرفہ ایجنڈے کا حصہ ہے، جس سے بین الاقوامی قوانین اور عالمی نظام کمزور ہو رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ 28 فروری سے پہلے یہ اہم بحری راستہ پوری طرح کھلا ہوا تھا، لیکن امریکی حملوں کے بعد وہاں کشیدگی پیدا ہوئی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس معاملے میں کسی بھی قسم کی مداخلت صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہے۔
ایرانی ترجمان نے متحدہ عرب امارات میں مقیم ایرانی شہریوں کے ساتھ بدسلوکی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ تہران کو اطلاعات ملی ہیں کہ گزشتہ ہفتے امارات میں بعض ایرانی شہریوں کو ہراساں کیا گیا۔ اس معاملے پر دبئی میں ایرانی سفارت خانے اور قونصل خانے کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ ایرانی شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
