امریکی دفاعی نظام ایران کے سامنے ناکام، اردن میں تعینات ’تھاڈ‘ کی بھی نکل گئی جان!

ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں سے جنگ کے پہلے 4 دنوں میں امریکی فوج کو تقریباً 2 ارب ڈالر کے سامان کا نقصان ہوا ہے۔ ان میں ایک سیٹکام ٹرمینل، 3 ایف 15۔ای اسٹرائیک ایگل اور ریڈار شامل ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی فوجی </p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے 28 فروری کو مشترکہ طور پرایران پرمسلط کی گئی جنگ اب واشنگٹن اور تل ابیب کو بھاری پڑتی نظر آرہی ہے۔ ان حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے شروع کی گئی کارروائی وقت کے ساتھ مزید شدت اختیار کرتی جارہی ہے جس میں امریکہ کو بڑا نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ خبروں کے مطابق ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں سے جنگ کے پہلے 4 دنوں میں امریکی فوج کو تقریباً 2 ارب ڈالر کے سامان کا نقصان ہوا ہے۔ ان میں ایک سیٹکام ٹرمینل، 3 ایف 15۔ای اسٹرائیک ایگل اور ریڈار شامل ہیں۔

خبروں کے مطابق ایرانی ڈرون نے قطر میں العدید ایئر بیس پر امریکی اے این؍ ایف پی ایس 132 ارلی وارننگ ریڈار سسٹم کو تباہ کر دیا جس کی قیمت 1.1 ارب ڈالر ہے۔ قطر نے امریکی ریڈار کی تباہی کی تصدیق کی ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے بحرین کے شہر منامہ میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈ کوارٹر پر بھی حملہ کر کے دو سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹرمینلز اور کئی بڑی عمارتوں کو تباہ کر دیا۔


سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق اردن کے موافاق سالتی ایئر بیس پر تعینات امریکی تھاڈ میزائل کی بیٹری کا ریڈار مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ جس کی قیمت تقریباً 300 ملین ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ ایران کی طرف سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈوں پر بھی ریڈار والی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایران کا بنیادی مقصد ان جدید ریڈاروں کو ختم کرکے فضائی دفاعی نظام کو تباہ کرنا ہے جو آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کا پتہ لگاتے ہیں۔

اردن کے موافاق سالتی ایئر بیس پر حملہ سب سے زیادہ تباہ کن رہا ہے۔ ایران سے تقریباً 500 میل کے فاصلے پر واقع یہ اڈہ امریکہ کے لیے ایک بڑا مرکز رہا ہے۔ لڑائی شروع ہونے سے پہلے لی گئی تصاویر میں 50 سے زیادہ جیٹ طیارے، ڈرون اور ٹرانسپورٹ طیارے رن وے پر کھڑے دکھائی دیے۔ حالانکہ سیٹلائٹ تصاویر اب ریڈار کے قریب دو بڑے، 13 فٹ گہرے گڑھے کو ظاہر کررہی ہیں، جس سے پتا چلتا ہے کہ اسے تباہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔


سابق ایئر مارشل انیل چوپڑا نے یوریشین ٹائمز میں لکھتے ہوئے بتایا کہ یوکرین کا فضائی دفاعی نظام 2022 کی یوکرین جنگ کے ابتدائی دنوں میں روسی فضائیہ کے خلاف انتہائی کامیاب رہا تھا اور یہی وجہ تھی کہ روس تیزی سے برتری حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔ بہترین تعداد اور ٹیکنالوجی کے باوجود روس یوکرین کے زمینی فضائی دفاعی نظام (جی بی اے ڈی ایس) کو تباہ کرنے میں ناکام رہا تھا۔

تاہم رواں سال جنوری میں جب امریکہ نے وینزویلا پر حملہ کیا تو اس نے روسی S-300 ایئر ڈیفنس اور چینی ریڈار کو سیکنڈوں میں تباہ کردیا۔ 150 سے زیادہ امریکی ایف۔35  اسٹیلتھ لڑاکا طیارے اور ای اے۔18 جی گرولرس وینزویلا کے آسمانوں میں اپنے مشن کو بڑی آسانی کے ساتھ انجام دے رہے تھے۔ لیکن مئی 2025 کی لڑائی کے دوران ایس۔ 400  فضائی دفاعی نظام ہندوستان کی ڈھال بن گیا تھا۔ پاکستان نے چینی سیٹلائٹ کا استعمال کرتے ہوئے ایس۔400  ایئر ڈیفنس سسٹم کا بھی پتہ لگالیا تھا، اس کے باوجود پاکستانی میزائل اور ڈرون ایس۔400  کے قریب بھی آنے میں ناکام رہے تھے۔ ایئر مارشل انیل چوپڑا کے مطابق ہندوستانی عملے کے ارکان ایس۔400  ایئر ڈیفنس سسٹم کو تیزی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔