ایران کے ڈرون حملے، بحرین اور کویت کی تنصیبات کو نقصان، مشرق وسطی کی جنگ دوسرے ہفتے میں داخل
ایران کے ڈرون حملوں میں بحرین کے پانی صاف کرنے کے پلانٹ اور کویت کے اہم انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا جبکہ خطے میں جاری ایران اور اسرائیل و امریکہ کی جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے

تہران/واشنگٹن/منامہ: ایران اور اسرائیل-امریکہ کے درمیان جاری جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے جبکہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے آثار سامنے آ رہے ہیں۔ اسی دوران ایران سے منسوب ڈرون حملوں کے نتیجے میں بحرین اور کویت میں اہم تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ملی ہیں جس کے بعد خلیجی خطے میں تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔
بحرین کی وزارتِ داخلہ کے مطابق ایرانی ڈرون حملے کے نتیجے میں ملک کے ایک پانی صاف کرنے والے پلانٹ کو نقصان پہنچا۔ وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ حملے میں سویلین تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جس کے باعث پلانٹ کو مادی نقصان پہنچا۔ حکام کے مطابق اتوار کے روز میزائل کے ٹکڑے گرنے سے تین افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ محراق کے علاقے میں واقع ایک یونیورسٹی کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔
دوسری جانب کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ڈرون حملے کے نتیجے میں ایندھن کے ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں میں آگ لگ گئی جسے بعد میں قابو میں لے لیا گیا۔ کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ کویتی فوج نے اس حملے کو ملک کے اہم انفراسٹرکچر کو براہ راست نشانہ بنانے کی کارروائی قرار دیا ہے۔
کویتی وزارتِ داخلہ نے ایک علیحدہ بیان میں بتایا کہ میزائلوں کے ملبے گرنے سے بعض شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ وزارت کے مطابق دو سرحدی محافظ اپنی قومی ذمہ داری انجام دیتے ہوئے ہلاک ہو گئے تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان کی ہلاکت براہ راست حملے کے نتیجے میں ہوئی یا کسی اور واقعے میں۔
ادھر کویت کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ملک کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے متعدد دشمن ڈرونز کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔ اسی دوران کویت کی قومی تیل کمپنی نے احتیاطی اقدام کے طور پر خام تیل کی پیداوار میں کمی کا اعلان بھی کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ ایران کی جاری جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔ بعض عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ مرحلے میں میزائل حملوں کے مقابلے میں ڈرون حملوں میں اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے کیونکہ ڈرون نسبتاً کم لاگت میں تیار کیے جا سکتے ہیں اور انہیں مختلف مقامات سے باآسانی لانچ کیا جا سکتا ہے۔
مرکز برائے اسٹریٹجک و بین الاقوامی مطالعات کے محققین کے مطابق اس حکمت عملی کے تحت ایران وقفے وقفے سے چھوٹے پیمانے کے حملے کر سکتا ہے تاکہ مخالف کے دفاعی نظام کو مسلسل دباؤ میں رکھا جا سکے۔
ادھر امریکی حکام کے مطابق جنگ کے پہلے ہفتے میں ہی امریکہ کو تقریباً چھ ارب ڈالر کے اخراجات برداشت کرنے پڑے ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امکان ہے کہ امریکی انتظامیہ جنگی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے مزید مالی منظوری طلب کرے گی۔
اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک تہران غیر مشروط طور پر ہتھیار نہ ڈال دے۔ دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ وہ اس جنگ میں طویل عرصے تک مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔