
بدعنوانی کے الزامات کے درمیان ’پی ایم فصل بیمہ‘ کے حوالے سے راجستھان سے چونکانے والی خبر سامنے آرہی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ ریاست کے وزیر زراعت نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کی ایک برانچ میں جاکر’پی ایم فصل بیمہ‘ اسکیم کے اہل کسانوں کی فہرست طلب کی۔ اس دوران دعویٰ کیا گیا ہے کہ برانچ کے افسر دو گھنٹے تک ٹال مٹول کرتے رے۔ الزام ہے کہ جب فہرست فراہم کی گئی تواس میں ایسے لوگوں کے نام شامل تھے جو نہ کسان تھے اورنہ ہی ان کے پاس زمین تھی۔ وزیرزراعت کروڑی لال مینا کا دعویٰ ہے کہ راجستھان بھر میں بینک اورانشورنس کمپنی کے اہلکاروں نے 1,100 کروڑ روپے سے زیادہ کے کلیم کا غبن کیا ہے۔
Published: undefined
’آج تک‘ کی نیوز کے مطابق صرف راجستھان میں فصل بیمہ اسکیم کے نام پر فرضی کسانوں کے ذریعہ منظم سازباز کرکے 1150 کروڑ روپے کھاتوں میں جمع کرائے گئے۔ دستاویزات کی بنیاد پردعویٰ کیا جا رہا ہے کہ جن لوگوں کے نام پر بیمہ کلیم لیا گیا، ان کا کوئی اتا پتا نہیں ہے۔ چورو ضلع کے سالاسر واقع ایس بی آئی کی شاخ پر الزام ہے کہ برانچ منیجر، دیگر بینک ملازمین اور انشورنس کمپنی سے وابستہ افراد نے سازبازکرکے فرضی انشورنس پالیسیاں جاری کیں۔ ایسی زمینوں کے نام بیمہ کیا گیا جن کا کوئی وجود نہیں تھا۔ ایسے کسانوں کے نام پر بیمہ کیا گیا جو کہیں درج ہی نہیں ہیں۔ فرضی پالیسیاں بنا کر کلیم ہڑپنے کی تیاری تھی۔ صرف ایک برانچ میں ہی 71 فرضی کسان پکڑے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
Published: undefined
وزیر زراعت کی طرف سے جمعہ کو ایس بی آئی کی سالاسر برانچ میں پی ایم فصل بیمہ اسکیم کے تحت کئے گئے گھوٹالے کا پردہ فاش کرنے کے بعد ہفتہ کو ایف آئی آر درج کروائی گئی۔ اس سلسلے میں دی گئی رپورٹ کی بنیاد پر سنگین مجرمانہ سازش، سرکاری خزانے کو نقصان اور کسانوں کے ساتھ دھوکہ دھڑی کامعاملہ درج کیا گیا ہے اور جانچ شروع کردی گئی ہے۔ ایس بی آئی سالاسر برانچ ضلع چورو کے منیجراُمیش کمار سارسوت، بینک ملازم بھاگیرتھ نائک (فصل بیمہ پالیسی جاری کرنے والے) اور دیگر اہلکاروں/ملازمین پر الزام ہے کہ انہوں نے ایگریکلچر انشورنس کمپنی آف انڈیا لمیٹڈ کے افسران/ نمائندوں کے ساتھ ملی بھگت کرکے فرضی بیمہ پالیسیاں جاری کیں۔
Published: undefined
’آج تک‘ کے مطابق ضلع بیکانیر میں گجنیر کےتحصیلدار سے حاصل معلومات کے مطابق متعلقہ کسانوں کے نام، سروے نمبر، مربع اور خسرہ نمبر اصل ریونیو ریکارڈ سے میل نہیں کھائے۔ اس کے باوجود سالاسر برانچ نے 71 مبینہ کسانوں سے ان کے ناموں پر فرضی زرعی اراضی دکھا کر تقریباً 13 لاکھ 51 ہزار روپے بطور پریمیم وصول کروائے گئے۔ مزید برآں تقریباً 15 لاکھ 76 ہزار 348 روپئے سرکاری خزانے میں جمع ہونا بتایا گیا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر کلی رقم تقریباً 9 کروڑ تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ خبر کے مطابق کچھ پالیسیوں میں کسان کا نام اور والد کا نام ایک ہی درج کردیا گیا۔ اس سے پورے نظام میں سنگین لاپرواہی اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔
Published: undefined