
وزیر اعلیٰ ہماچل پردیش سکھوندر سنگھ سکھو / آئی اے این ایس
ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے آر ڈی جی (ریونیو ڈیفیسٹ گرانٹ) کے متعلق مرکزی حکومت پر براہ راست حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آر ڈی جی کا بند ہونا ہماچل کی معیشت کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔ اس معاملے پر 8 فروری کو رکھی گئی کابینہ کی میٹنگ میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ آر ڈی جی معاملے پر آل پارٹی میٹنگ بلا کر پریزنٹیشن دی جائے گی، تاکہ ہماچل کی معاشی حالت پر بحث ہو سکے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماچل کی زمین پر لگائے گئے پاور پروجیکٹس سے حکومت ٹیکس وصولی کرے گی، جس سے ہماچل کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔
Published: undefined
وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے کہا کہ 2019 سے 2025 تک ہماچل کو 48 ہزار کروڑ روپے آر ڈی جی کے طور پر ملے، لیکن اس آئینی گرانٹ کا اچانک بند ہونا ریاست کے لیے سنگین معاشی بحران پیدا کر دے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ 1952 سے ہماچل کو آر ڈی جی ملتا آ رہا ہے، اسے ایسی حالت میں روکا جائے گا، میں نے اس کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے واضح لفظوں میں کہا کہ یہ وقت پارٹی لائن سے اوپر اٹھنے کا ہے سیاست کرنے کا نہیں۔ آر ڈی جی کو بچانے کے لیے تمام پارٹیوں کو متحد ہو کر مرکزی حکومت سے بات کرنی ہوگی۔ 8 فروری کو اس معاملے پر پریزنٹیشن دی جائے گی، تاکہ ہر رکن اسمبلی کو اس صورت حال کی سنگینی سے آگاہ کیا جا سکے۔
Published: undefined
جی ایس ٹی (گڈز اینڈ سروسز ٹیکس) پر بھی وزیر اعلیٰ نے مرکزی حکومت کو گھیرتے ہوئے کہا کہ ’’جی ایس ٹی کا فائدہ صرف بڑی ریاستوں کو ہوا ہے، جبکہ ہماچل جیسی پہاڑی ریاستوں کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔‘‘ رکن پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکر کو چیلنج دیتے ہوئے سکھوندر سنگھ سکھو نے کہا کہ واضح کریں کہ وہ آر ڈی جی بند ہونے کے حق میں ہیں یا ان کے خلاف میں۔
Published: undefined
بی جے پی کے بیانات پر جوابی حملہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہماچل کو میدانی ریاستوں کی قطار میں کھڑا کرنا غلط ہے۔ 68 فیصد زمین جنگلاتی رقبہ، 28 فیصد فاریسٹ کور اور 5 ندیوں والا ہماچل ماحولیات کو بچا کر ترقی کرتا ہے۔ ایسی پہاڑی ریاست کی ترقی کے لیے آر ڈی جی لائف لائن ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آر ڈی جی بند ہونے کا اثر ریاست کی معیشت پر پڑے گا اور اس کے لیے ریاست کے عوام کو بھی جدوجہد کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined