موبائل گیم نے لے لی معصوم کی جان، اکلوتے بیٹے کی لاش پھندے پر لٹکی دیکھ کر ٹوٹ گئے والدین
اہل خانہ نے پولیس کو بتایا کہ انش اپنے موبائل فون پر فری فائر گیم کھیلنے کا عادی تھا۔ ہوسکتا ہے کہ گیم میں دیئے گئے کسی ٹاسک کو پورا کرنےکے دباؤ میں اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا ہو۔

مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال سے ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے ہر والدین کو دہلا دیا ہے۔ یہاں پر 14 سال کے انش ساہو کی زندگی آن لائن گیمز کی لت نے نگل لی۔ 14 سال کا معصوم ’فری فائرگیم‘ کھیلنے کا شوقین تھا لیکن اس میں 28 ہزار روپے ہار گیا تھا۔ والدین کے پیسوں کانقصان ہونے کے ڈر سے معصوم انش نے اپنے ہی گھر میں اپنی جان دی دی۔
’اے بی پی نیوز‘ کے مطابق انش کے والدین تیرہویں میں شرکت کرنے گئے ہوئے تھے۔ جب وہ گھر واپس آئے تو انہوں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو پھندے سے لٹکا ہوا پایا۔ یہ منطر دنیا میں کسی ماں باپ کو کبھی نہ دیکھنا پڑے لیکن انش کے والدین کو جو برداشت کرنا پڑا اسے سمجھنا بہت مشکل ہے۔ اپنے اکلوتے بیٹے کی موت سے خاندان پوری طرح ٹوٹ گیا ہے۔
انش ساہو آٹھویں جماعت میں تھا اور اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھا۔ پولیس کو جائے وقوعہ سے کوئی خودکشی نوٹ نہیں ملا ہے تاہم اس کے کمرے سے بچے کا موبائل فون برآمد ہوا ہے۔ اہل خانہ نے پولیس کو بتایا کہ انش اپنے موبائل فون پر فری فائر گیم کھیلنے کا عادی تھا۔ ہوسکتا ہے کہ گیم میں دیئے گئے کسی ٹاسک کو پورا کرنےکے دباؤ میں اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا ہو۔ خودکشی کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آئی ہے تاہم لواحقین کے بیانات قلمبند کر لیے گئے ہیں۔ پپلانی پولس اس وقت تفتیش کر رہی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔