کینسر کا عالمی دن: بچاؤ ممکن، بس نقصان دہ عادتوں سے دوری ضروری
وزارت آیوش کے مطابق کینسر سے بچاؤ کے لیے سب سے پہلے تمباکو اور اس کی تمام مصنوعات (سگریٹ، گٹکا، بیڑی، پان مسالہ، حقہ وغیرہ) سے مکمل طور سے دور رہیں۔

کینسر ایک ایسی جان لیوا بیماری ہے، جس کا نام سنتے ہی لوگ ڈر جاتے ہیں۔ یہ بیماری اس قدر خطرناک ہے کہ اگر وقت پر علاج نہ ہو تو مریض کی جان تک چلی جاتی ہے۔ حالانکہ ماہرین کا خیال ہے کہ صحیح عادتوں کو اپنا کر اور کچھ بری عادتوں سے مکمل طور سے دوری اختیار کر اس خطرناک بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ ہر سال 4 فروری کو کینسر کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن پوری دنیا میں کینسر کے تئیں بیداری پھیلانے، اس بیماری کی وجوہات کو سمجھنے اور بچاؤ کے طریقوں پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے وقف ہے۔
گزرتے وقت کے ساتھ ہندوستان کے اندر بھی کینسر کے مریضوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہو رہا ہے۔ ہندوستانی حکومت کی وزارت آیوش کینسر سے بچاؤ کے لیے کچھ آسان اور مؤثر تجاویز پیش کرتی ہے، جنہیں روزمرہ کے معمولات میں شامل کر لیا جائے تو خطرہ کافی حد تک کم ہو سکتا ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی عادتیں اپنا کر نہ صرف کینسر سے بچا جا سکتا ہے بلکہ صحت بھی بہتر کی جا سکتی ہے۔ وزارت کے مطابق کینسر سے بچاؤ کے لیے سب سے پہلے تمباکو اور اس کی تمام مصنوعات (سگریٹ، گٹکا، بیڑی، پان مسالہ، حقہ وغیرہ) سے مکمل طور سے دور رہیں۔ تمباکو کینسر کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے، خاص کر منہ، پھیپڑے، گلے اور پیٹ کے کینسر کا۔ دوسرا یہ کے جسم کا وزن متوازن رکھیں، موٹاپا کئی طرح کے کینسر (چھاتی، آنت، گردے، بچے دانی وغیرہ) کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے۔ اس لیے متوازن وزن برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔
تیسری ضروری چیز ہے باقاعدہ ورزش اور جسمانی سرگرمیاں۔ روزانہ کم از کم 45-30 منٹ پیدل چلنا، یوگ، سائیکلنگ یا کوئی بھی جسمانی ورزش کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ ساتھ ہی پھلوں، سبزیوں اور غذائیت سے بھرپور کھانے کی مقدار میں اضافہ کریں۔ رنگ برنگے پھل اور سبزیاں، ثابت اناج، دالیں، خشک میوہ جات اور کم پروسیس شدہ غذائیں کھانے سے جسم میں اینٹی آکسیڈنٹس بڑھتے ہیں، جو کینسر کے خلیوں سے لڑنے میں مدد کرتے ہیں۔ کینسر سے بچاؤ کے لیے سب سے اہم ہے کہ باقاعدگی سے ہیلتھ چیک اپ کراتے رہیں۔ ڈاکٹر کے مشورہ پر اسکریننگ جیسے میموگرافی، پیپ اسمیئر اور کولونوسکوپی کروائیں۔ ابتدائی مراحل میں کینسر کا پتہ لگایا جا سکتا ہے، جس سے علاج آسان اور کامیاب ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : انسداد تمباکو نوشی کا عالمی دن
واضح رہے کہ کینسر کا نام گزشتہ 3 دہائی سے زیادہ سننے میں آ رہا ہے، لیکن یہ بیماری کتنی پرانی ہے اس کے بارمیں مختصراً جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ’دی کینسر اٹلس‘ کے مطابق انسانی تاریخ میں کینسر کا سب سے قدیم دستاویزی ثبوت مصر سے ملتا ہے۔ تقریباً 3 ہزار سال قبل مصر کے ایک شخص میں پائے گئے ٹیومر کو کینسر کا پہلا آفیشل انسانی کیس مانا جاتا ہے۔ اس بیماری کو کینسر کا نام ’مدر آف میڈیسن ہپوکریٹس‘ نے دیا تھا۔ انہوں نے اس بیماری کو ’کارسینوما‘ کا نام دیا تھا، جسے بعد میں کینسر بولا جانے لگا۔ ان کا ماننا تھا کہ کینسر خون، پت اور کف کے عدم توازن کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جب یہ کمزور ہو جاتا ہے تو جسم کی قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے، جو بعد میں کینسر کی وجہ بنتی ہے۔
میکس ہاسپٹل میں شعبہ آنکولوجی کے ڈاکٹر روہت کپور کا کہنا ہے کہ کینسر کے کیسز میں اضافے کی بہت ساری وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اب بیماری کی تشخیص زیادہ ہو رہی ہے۔ یعنی ٹیسٹ بڑھ گئے ہیں اور لوگ زیادہ آگاہ ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے بیماری زیادہ سامنے آ رہی ہے۔ دوسری بڑی وجہ خراب طرز زندگی اور کھانے پینے کی غلط عادات ہیں، جس کی وجہ سے جسم میں فری ریڈیکلز بڑھ رہے ہیں، جو کینسر کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ اب کم عمر میں ہی لوگ اس بیماری کا شکار ہو رہے ہیں۔