ذمہ دار ممالک کی فہرست میں ہندوستان کو ملا 16واں مقام، ’ورلڈ انٹلیکچوئل فاؤنڈیشن‘ نے جاری کی رپورٹ

ورلڈ انٹلیکچوئل فاؤنڈیشن (ڈبلیو آئی ایف) کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان نے صحت کی خدمات، سماجی مساوات، ماحولیات سے متعلق منصوبوں اور عوام پر مبنی پالیسیوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ&nbsp;@IndianTechGuide</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

دنیا میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی، معاشی بے یقینی اور موسمیاتی بحران کے درمیان ذمہ دار ممالک کی فہرست 2026 جاری کر دی گئی ہے۔ یہ رپورٹ ورلڈ انٹلیکچوئل فاؤنڈیشن (ڈبلیو آئی ایف) نے گزشتہ ماہ 19 جنوری کو شائع کی ہے۔ اس فہرست میں سنگاپور کو دنیا کا سب سے ذمہ دار ملک قرار دیا گیا ہے۔ سنگاپور نے گورننس، معاشرے اور ماحولیات کے شعبے میں بہتر کام کر کے پہلا مقام حاصل کیا ہے۔ اس فہرست میں سوئٹزرلینڈ دوسرے اور ڈنمارک تیسرے نمبر پر ہے۔ ان ممالک کو ایماندارانہ گورننس، معاشرتی تحفظ اور عالمی ذمہ داری بخوبی نبھانے کے لیے سراہا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ رپورٹ عام عالمی درجہ بندی سے مختلف ہے، کیونکہ اس میں صرف معاشی طاقت یا فوجی قوت کو نہیں دیکھا گیا ہے، بلکہ یہ پرکھا گیا کہ کوئی ملک اپنی عوام اور پوری دنیا کے لیے کتنا ذمہ دار ہے۔

اس انڈیکس میں دنیا کے 154 ممالک کو 4 اہم بنیادوں پر پرکھا گیا، جو اس طرح ہیں:

ایماندار اور شفاف طرز حکمرانی

لوگوں کی سماجی بہبود

ماحولیاتی تحفظ

دنیا کے تئیں ذمہ داری

رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ بڑی معیشت ہونے کے باوجود کئی ممالک پیچھے رہ گئے۔ امریکہ کو 66وں اور چین کو 68واں مقام حاصل ہوا ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صرف پیسہ طاقت ہونا ہی ذمہ داری کی پہچان نہیں ہے۔ پاکستان اس فہرست میں 90ویں مقام پر ہے۔ یورپ کے کئی ممالک اس فہرست میں ٹاپ پر ہیں، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہاں حکومت اور معاشی ذمہ داری پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ جبکہ جنگ اور بحرانوں سے نبرد آزما ممالک کی صورتحال انتہائی کمزو رہی۔ شام 153ویں اور یمن 151ویں مقام پر رہے، جو فہرست میں سب سے نیچے ہیں۔


ہندوستان کو اس فہرست میں 16واں مقام حاصل ہوا ہے اور اس کا اسکور 0.5515 رہا۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستان نے صحت کی خدمات، سماجی مساوات، ماحولیات سے متعلق منصوبوں اور عوام پر مبنی پالیسیوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ حالانکہ رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ ہندوستان کو طویل عرصے تک بہتر کارکردگی کرنے کے لیے متوازن ترقی اور مستقل پالیسی پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ مجموعی طور پر یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ ذمہ داری صرف طاقت سے نہیں بلکہ درست پالیسیوں اور لوگوں کے مفاد میں کیے گئے کاموں سے بنتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔