
قومی آواز کے آن لائن ایڈیشن کی اشاعت کا آج ایک برس مکمل ہو چکا ہے۔ اس موقع پر پیش ہیں وہ خبریں جنہیں قارئین نے سب سے زیادہ پسند کیا۔
آزاد ہندوستان کے اس 70 برس کے سفر میں اگر ہندوستان نے بہت کچھ حاصل کیا تو اب وہ ورثہ خطرے میں ہے۔ ملک پر ایک ایسا نظریہ تھوپنے کی کوشش ہے جو جنگ آزادی کی جدوجہد سے پیدا ہونے والے ’ہندوستانی نظریہ‘ کے لیے خطرہ بن گیاہے۔
اُردو ہمیشہ مسلمانوں کی نہیں بلکہ ہندوستان کی زبان رہی ہے، اس کا جیتا جاگتا ثبوت جواہر لال نہرو کی شادی کا دعوت نامہ ہے، اُردو زبان کے اس دعوت نامہ میں تاریخ، سنہ اور وقت بھی اُردو میں ہی لکھا گیا ہے۔
حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کے بجائے خود اپنے معاشرہ میں اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔
بیٹا بس میں اس منحوس روز آفس سے نکلنے والا تھا کہ خبر ملی کہ ممبئی میں ایک جہاز گر گیا۔ اب پائلٹ کا نام دیکھا تو ماریہ زبیری۔ دل دھک ہو کر رہ گیا۔
میوات کے مرحوم ریاض احمد نے اپنی 11 بچیوں کو بوجھ نہیں جانا اور انہیں اعلیٰ تعلیم دی۔ آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن جو تعلیم کا ننہا پودا انہوں نے لگایا تھا وہ اب پھل دار درخت میں تبدیل ہو چکا ہے۔
ہندوستان کی آبادی میں لگاتار اضافہ کے ساتھ تمام بڑی زبانوں کے بولنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے لیکن افسوس صد افسوس اردو زبان کا زوال ہورہا ہے۔
مسلم نوجوان کی جان بچانے والے سکھ سب انسپکٹر گگن دیپ سنگھ نے کہا ، ’’وہ میری چھاتی سے ایسے چمٹ گیا جیسے بچہ ماں سے چمٹ جاتا ہے۔ اسے کچھ ہو جاتا تو میں خدا کو کیا منہ دکھاتا۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔