تعلیم نسواں کی مثال، میوات کی اعلیٰ تعلیم یافتہ 11 بہنیں

میوات کے مرحوم ریاض احمد نے اپنی 11 بچیوں کو بوجھ نہیں جانا اور انہیں اعلیٰ تعلیم دی۔ آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن جو تعلیم کا ننہا پودا انہوں نے لگایا تھا وہ اب پھل دار درخت میں تبدیل ہو چکا ہے۔

By محمد صابر قاسمی میواتی

صوبہ ہریانہ علاقہ میوات (ضلع نوح) کی سرزمین پر تعلیم نسواں کی ایک ایسی مثال موجود ہے جو ہندوستان میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ بات ہو رہی ہے خطہ میوات کے گاؤں چندینی کے رہائشی ریاض احمد مرحو م اور ان کی اہلیہ کی جنہیں اللہ نے 11 بیٹیاں عطا کیں اور ہر ایک بیٹی نے تعلیمی میدان میں کامیابی حاصل کی۔

ریاض احمد نے اپنی 11 بچیوں کو بنیادی مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ اعلی تعلیم بھی فراہم کی، وہ اس وقت اس دنیا میں موجود نہیں ہیں لیکن اپنے گھر کے آنگن میں جو تعلیم کا ننہا پودا انہوں نے لگایا تھا وہ اب پھلدار شجر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ریاض احمد کی 11 بیٹیوں نے اعلی تعلیم کے ساتھ ساتھ کم از کم پوسٹ گریجویٹ تک تعلیم حاصل کی ہے جبکہ بعض بہنوں نے گریجویشن کے بعد کسی نے ایم اے، بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی ہے تو کسی نے گریجویشن کے بعد جے بی ٹی، کسی نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے تو کسی نے ایم فیل کی تعلیم حاصل کی اور اس طرح تقریباً نصف درجن سے زائد بہنیں اپنی تہذیب و ثقافت کے ساتھ سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں ملازمتیں کرکے تعلیم کے مقصد کو عملی طور پر پیش کر ملک و ملت کے لیے مثالی کام کر رہی ہیں۔ داد دینی ہوگی ان بہنوں کے جذبہ محنت کو جنہوں نے مخالف ماحول کے معاشرے میں رہ کر اپنے مشن اور اہداف کو حاصل کیا۔

یاد رہے کہ خطہ میوات ایک ایسا علاقہ ہے جہاں نہ تو اعلی تعلیمی ادارے ہیں اور نہ ہی طالبات کے لیے سرکاری و غیر سرکاری معیاری ادارے ہیں جہاں جاکر وہ اپنے اعلی تعلیمی سفر کو جاری رکھ سکیں۔ اسی لئے یہاں کے غیور مسلمان اپنی بیٹیوں کو مخلوط تعلیم دینے سے کتراتے ہیں۔

یوم خواتین کے موقع پر 11 بہنوں میں سے ایک نصرت نے قومی آواز نے بتایا کہ ’’ہمارے والد ریاض احمد مرحوم پنجاب وقف بورڈ میں پٹواری کے عہدے پر فائز تھے۔ بڑی بہنوں نے ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی بعد میں تمام چھوٹی بہنوں نے میوات سے ہی تعلیم حاصل کی۔‘‘ نصرت مزید کہتی ہیں ’’گھر پر ہمارا پورا ماحول تعلیمی ہوگیا جس کی بنا پر تمام بہنوں کے لیے آسانیاں پیدا ہوتی چلی گئیں۔ ہم اپنے والدین کی 11 حقیقی بیٹیاں ہیں اور ہماراکوئی حقیقی بھائی نہیں ہے لیکن ہمارے والدین نے ہماری بے مثال تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کی طرف پوری نگہ داشت رکھی۔ ان کےتعلیم و تربیت پر توجہ دینے کی وجہ سے آج ہم اس مقام تک پہونچی ہیں۔‘‘

نصرت کہتی ہیں کہ ’’ہمارے عزائم میں یہ شامل ہے کہ ہم کچھ ایسا کام کر جائیں کہ قوم ہمیں اپنی بیٹیوں کے حصول تعلیم کے لئے ترغیب دے کر نمونہ سمجھیں۔‘

  1. سب سے بڑی بہن نفیسہ ایم اے، بی ایڈ ہیں اور سرکاری ملازمت کر رہی ہیں۔
  2. دوسری بہن شبنم بھی ایم اے، بی ایڈ کرنے کے بعد سرکاری ملازمت کر رہی ہیں۔
  3. تیسری بہن افسانہ بھی ایم اے، بی ایڈ کی تعلیم حاصل کر چکی ہیں۔
  4. چوتھی بہن فرحانہ ہیں جو ایم اے، بی ایڈ اور ’جے بی ٹی‘ کے بعد سرکاری ملازمت کر رہی ہیں۔
  5. پانچویں بہن شہناز نے ایم اے، بی ایڈ کیا ہے اور پرائیویٹ اسکول میں ٹیچر ہیں۔
  6. چھٹی بہن عشرت ہیں جو بی ایڈ تک کی تعلیم حاصل کر چکی ہیں۔
  7. ساتویں بہن نصرت ہیں جنہوں نے ایم اے، بی ایڈ اور ایم ایڈ کی ڈگریاں حاصل کیں اور نوح سے متصل مالب پولی ٹیکنیکل کالج میں سرکاری ملازمت کر رہی ہیں۔
  8. آٹھویں بہن انا ریاض ہیں جو ایم اے، جے بی ٹی، بی ایڈ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سرکاری ملازمت میں ہیں۔
  9. نویں بہن رضیہ ہیں جو ایم اے، بی ایڈ کی ڈگری حاصل کر پرائیویٹ سیکٹر میں ملازمت کر رہی ہیں ۔
  10. دسویں بہن نازیہ آرکیٹیکٹ ہیں اور کچھ عرصہ سے قطر میں ملازمت کر رہی ہیں۔
  11. گیارہویں بہن بشریٰ ہیں جو سب سے چھوٹی ہیں اور بی ایڈ کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔