لکھنؤ آتشزدگی: 15 افراد کی جانیں لینے والی عمارت گرانے کا حکم، ایل ڈی اے عدالت کی منظوری

ایل ڈی اے عدالت نے لکھنؤ کے علی گنج میں آتشزدگی سے متاثرہ عمارت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے گرانے کا حکم دیا ہے۔ مالک کو 15 دن کی مہلت دی گئی ہے، بصورت دیگر ایل ڈی اے خود کارروائی کرے گی

<div class="paragraphs"><p>لکھنؤ آتشزدگی کی فائل تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i

اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے علی گنج سیکٹر ڈی میں گزشتہ ماہ پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے میں 15 افراد کی جان لینے والی عمارت کو گرانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ لکھنؤ ترقیاتی اتھارٹی (ایل ڈی اے) کی مجاز عدالت نے عمارت کو منظور شدہ نقشے کے برخلاف اور تعمیراتی ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر شدہ قرار دیتے ہوئے اس کے انہدام کا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالت کے حکم کے بعد عمارت کے مالکان کو 15 دن کے اندر خود غیر قانونی تعمیر ہٹانے کی مہلت دی گئی ہے۔

لکھنؤ ترقیاتی اتھارٹی کے مطابق یہ کارروائی اتر پردیش شہری منصوبہ بندی اور ترقی قانون 1973 کی متعلقہ دفعات کے تحت کی جا رہی ہے۔ نوٹس عمارت کے مالکان وریندر شکلا، سریندر شکلا اور دیگر متعلقہ افراد کو جاری کیا گیا ہے۔ حکم میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر مالکان نے خود عمارت نہیں گرائی تو اتھارٹی اپنے طور پر انہدام کی کارروائی انجام دے گی اور اس پر آنے والے تمام اخراجات متعلقہ فریقوں سے سرکاری واجبات کی طرح وصول کیے جائیں گے۔


تحقیقات کے دوران لکھنؤ ترقیاتی اتھارٹی نے پایا کہ عمارت کی تعمیر منظور شدہ نقشے کے مطابق نہیں کی گئی تھی اور کئی حصوں میں غیر مجاز تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ بعد ازاں خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی جانچ میں بھی متعدد سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ رپورٹ کے مطابق عمارت میں ہنگامی انخلا کے لیے مختص راستے کی جگہ لفٹ تعمیر کر دی گئی تھی، مقررہ حد سے زیادہ بجلی کا بوجھ استعمال کیا جا رہا تھا اور آگ سے تحفظ کے لازمی اصولوں پر بھی عمل نہیں کیا گیا تھا۔

اتھارٹی نے یہ بھی بتایا کہ عمارت کے مالکان کو اس سے قبل بھی اپنا مؤقف پیش کرنے اور وضاحت دینے کا موقع دیا گیا تھا، تاہم وہ اطمینان بخش جواب دینے میں ناکام رہے۔ اسی بنیاد پر مجاز عدالت نے عمارت کے انہدام کا حکم صادر کیا۔

یاد رہے کہ 22 جون 2026 کو علی گنج کی اس عمارت میں اچانک لگنے والی شدید آگ نے چند ہی لمحوں میں پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ اندر موجود متعدد افراد باہر نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ امدادی اور فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے کئی گھنٹوں کی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پایا، لیکن اس وقت تک 15 افراد جان کی بازی ہار چکے تھے جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے تھے۔


حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر 19 سے 30 برس کے نوجوان شامل تھے، جو اسی عمارت میں قائم اینی میشن اور گیم ڈیولپمنٹ اسٹوڈیو میں کام کرتے تھے۔ اس سانحے کے بعد عمارت کی تعمیر، آگ سے تحفظ کے انتظامات اور متعلقہ محکموں کی نگرانی پر سنگین سوالات اٹھے تھے، جس کے بعد ریاستی حکومت نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی، عمارت کو سیل کیا گیا اور مالکان سمیت دیگر ذمہ داران کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے۔ اب عدالت کے تازہ حکم کے بعد اس عمارت کو مکمل طور پر منہدم کرنے کی کارروائی متوقع ہے۔