قومی خبریں

انیس ریاستوں میں زمین کے کاغذات آن لائن، خرید و فروخت اور قرض کا عمل آسان

مرکزی حکومت نے زمین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنا کر 19 ریاستوں میں گھر بیٹھے قانونی طور پر معتبر کاغذات ڈاؤن لوڈ کی سہولت فراہم کی ہے، جس سے خرید و فروخت، رجسٹریشن اور قرض کے عمل میں تیزی اور شفافیت آئے گی

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

تصویر اے آئی

 

نئی دہلی: ملک میں زمین سے متعلق امور کو آسان، شفاف اور تیز بنانے کے مقصد سے مرکزی حکومت نے ایک اہم پیش رفت کی ہے، جس کے تحت اب 19 ریاستوں کے شہری اپنے زمین کے کاغذات گھر بیٹھے ڈیجیٹل شکل میں ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے۔ یہ دستاویزات قانونی طور پر مکمل طور پر معتبر ہوں گی اور انہیں خرید و فروخت، عدالتی کارروائیوں اور بینک قرض کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

Published: undefined

حکومت کے مطابق، محکمہ وسائلِ اراضی کی جانب سے زمین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے کا کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ اس اقدام کے بعد شہریوں کو زمین سے متعلق امور کے لیے دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت کم ہو گئی ہے اور زیادہ تر خدمات آن لائن دستیاب ہو رہی ہیں۔ خاص طور پر 406 اضلاع میں بینک اب زمین کو رہن رکھنے سے متعلق معلومات آن لائن جانچ سکتے ہیں، جس سے قرض کی منظوری میں غیر ضروری تاخیر ختم ہو رہی ہے۔

دیہی ترقی کی وزارت نے بتایا کہ ملک کے 97 فیصد سے زائد دیہات میں زمین کے حقوق سے متعلق ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہو چکے ہیں۔ اسی طرح تقریباً 97 فیصد زمین کے نقشے بھی ڈیجیٹل شکل میں تبدیل کر دیے گئے ہیں، جبکہ 85 فیصد دیہات میں تحریری ریکارڈ کو نقشوں کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے، جس سے زمین کی شناخت اور ملکیت کے تنازعات میں کمی آنے کی توقع ہے۔

Published: undefined

شہری علاقوں میں زمین کے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے قومی سطح پر ایک خصوصی منصوبہ شروع کیا گیا ہے، جس کے تحت جدید جغرافیائی تکنیکوں کی مدد سے شہری زمین کا سروے کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 157 شہری بلدیاتی اداروں میں کام جاری ہے، جن میں سے 116 علاقوں میں فضائی سروے مکمل ہو چکا ہے اور ہزاروں مربع کلومیٹر رقبے کو اعلیٰ معیار کی تصویروں کے ذریعے کور کیا گیا ہے۔

حکومت نے بتایا کہ 72 شہروں میں زمینی جانچ کا عمل شروع ہو چکا ہے، جبکہ 21 شہروں میں یہ کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مالی سال 2025-26 کے لیے 24 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ایک ہزار پچاس کروڑ روپے کی مالی مدد فراہم کی گئی ہے تاکہ زمین کے ڈیجیٹل ریکارڈ کا عمل مکمل کیا جا سکے۔

Published: undefined

زمین کے لیے ایک منفرد شناختی نمبر بھی متعارف کرایا گیا ہے، جسے چودہ ہندسوں پر مشتمل یو ایل پی آئی این کہا جاتا ہے اور اسے زمین کا آدھار بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ نومبر 2025 تک 29 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 36 کروڑ سے زائد زمینی قطعوں کو یہ شناختی نمبر دیا جا چکا ہے۔

حکومت کے مطابق قومی دستاویز رجسٹریشن نظام کے نفاذ سے زمین کی خرید و فروخت کا عمل مزید آسان ہو گیا ہے اور اب رجسٹریشن کے فوراً بعد ریکارڈ خودکار طور پر اپ ڈیٹ ہو جاتا ہے۔ ان تمام اقدامات سے زمین سے متعلق نظام کو زیادہ قابل اعتماد، شفاف اور عوام دوست بنانے میں مدد ملی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined