’ہندوستان کی سفارت کاری نے نبھایا تھا اہم کردار‘، آبنائے ہرمز کشیدگی کے دوران کانگریس نے یاد کیا ’سویز بحران‘

جے رام رمیش نے کہا کہ ’’26 جولائی 1956 کو کے صدر جمال عبد الناصر نے سویز نہر کو قومی ملکیت میں لے لیا تھا، جس پر مغربی ممالک کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا اور جنگ جیسی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>جے رام رمیش / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

پوری دنیا اس وقت ’آبنائے ہرمز‘ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے نبردآزما ہے۔ ایسے میں کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے منگل کو 1956 کے ’سویز بحران‘ کو یاد کرتے ہوئے اس دور کی سفارتی کوششوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہندوستان کے سینئر سفارت کار وی کے کرشن مینن بحران کو حل کرنے کی کوشش کے مرکز میں تھے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’70 سال قبل دنیا سویز بحران سے دوچار تھی۔ 26 جولائی 1956 کو مصر کے صدر جمال عبد الناصر نے سویز نہر کو قومی ملکیت میں لے لیا تھا، جس پر مغربی ممالک کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا اور جنگ جیسی صورتحال پیدا ہو گئی۔‘‘

کانگریس لیڈر نے پوسٹ میں بتایا کہ ’’29 اکتوبر 1956 کو برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے مصر پر حملہ کر دیا تھا، لیکن کچھ ہی دنوں میں اس وقت کے امریکی صدر ڈوائٹ آئزن ہاور کی مداخلت کے بعد انہیں پیچھے ہٹنا پڑا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ ’’یہی آئزن ہاور 3 سال قبل ایران کے وزیر اعظم محمد مصدق کو ہٹانے کی مشترکہ مہم کو منظوری دے چکے تھے۔‘‘


جے رام رمیش کے مطابق نومبر 1956 کی شروعات میں جنگ رکنے کے بعد اقوام متحدہ کی ایک ایمرجنسی فوج (یو این ای ایف) کو سینائی اور غزہ کے علاقوں میں تعینات کیا گیا تھا، جس میں ہندوستان سمیت 10 ممالک شامل تھے۔ اس فوج نے جون 1967 تک وہاں امن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس مشن میں ہندوستان کا اہم کردار رہا دسمبر 1959 سے جنوری 1964 تک لیفٹیننٹ جنرل پی ایس گیانی اور جنوری 1966 سے جون 1967 تک میجر جنرل اندرجیت رِکیے نے اس کی کمان سنبھالی۔ ساتھ ہی 20 مئی 1960 کو اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے غزہ میں ہندوستانی فوجیوں سے خطاب بھی کیا تھا۔ کانگریس لیڈر کے مطابق یو این ای ایف کے ہٹنے کے فوراً بعد ہی 6 روزہ جنگ شروع ہو گئی تھی، جو خطے میں ایک بڑے تصادم کا باعث بنی۔

قابل ذکر ہے کہ کانگریس کی جانب سے یہ تاریخی حوالہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی سپلائی پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، لیکن حالیہ حملوں کی وجہ سے بحری جہازوں کی آمد و رفت کافی سست ہو گئی ہے۔ ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں پر حملوں کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس سے عالمی معیشت اور صارفین پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ امریکہ پر بھی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کرنے کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔