افغانستان پر پاکستانی حملے کو کانگریس نے انسانیت کے خلاف ’گھناؤنا عمل‘ قرار دیا
ملکارجن کھڑگے نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’کانگریس کی جانب سے ہم کابل میں حالیہ فضائی حملوں کے نتیجے میں ایک اسپتال پر حملے کے باعث تقریباً 400 بے گناہ شہریوں کی ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں۔‘‘

اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک مشرق وسطیٰ میں جاری سنگین کشیدگی کے باعث گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس کا اثر اب براہ راست عام لوگوں پر بھی ہونے لگا ہے۔ اسی دوران افغانستان اور پاکستان کے درمیان وقفے وقفے سے جاری کشیدگی نے ایک بار پھر شدت اختیار کر لی ہے۔ حالیہ واقعہ میں پاکستان کی جانب سے کابل کے ایک اسپتال پر فضائی حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 400 افراد جاں بحق اور 250 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ کانگریس نے اس فضائی حملے میں جان گنوانے والے افغانستان کے لوگوں کے تئیں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’انڈین نیشنل کانگریس کی جانب سے ہم کابل میں حالیہ فضائی حملوں کے نتیجے میں ایک اسپتال پر حملے کے باعث تقریباً 400 بے گناہ شہریوں کی ہلاکت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں۔‘‘ اپنی پوسٹ میں کانگریس صدر نے آگے لکھا کہ ’’ہم انسانیت کے خلاف اس گھناؤنے عمل کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ ایسی بربریت کو عالمی سطح پر سختی سے مسترد کیا جانا چاہیے۔‘‘
افغانستان کے ساتھ اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے مزید لکھا کہ ’’ہم اپنے افغان بھائیوں اور بہنوں اور اُن خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’ہندوستانی لوگوں کے ساتھ افغانستان کے عوام کے دیرینہ دوستانہ اور خیر سگالی کے تعلقات رہے ہیں۔ اس مشکل گھڑی میں ہم اپنے افغان ہمسایوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے ملک میں امن، بحالی اور استحکام کے لیے دعاگو ہیں۔‘‘