تین ماہ سے بڑے بچے کو گود لینے والی خواتین بھی زچگی رخصت کی حق دار، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ 3 ماہ سے بڑے بچے کو گود لینے والی خواتین بھی زچگی رخصت کی حق دار ہوں گی۔ عدالت نے عمر کی شرط کو امتیازی قرار دے کر ختم کر دیا اور پدری رخصت پر قانون سازی کی ضرورت بھی بتائی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے زچگی رخصت (میٹرنٹی لیو) کے حوالے سے ایک نہایت اہم اور دور رس اثرات رکھنے والا فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب تین ماہ سے زیادہ عمر کے بچے کو گود لینے والی خواتین بھی میٹرنٹی لیو کی حق دار ہوں گی۔ عدالت عظمیٰ نے اس سے قبل موجود اس شرط کو غیر آئینی اور امتیازی قرار دیتے ہوئے ختم کر دیا ہے، جس کے تحت صرف تین ماہ تک کے بچے کو گود لینے والی خواتین کو ہی 12 ہفتوں کی زچگی رخصت دی جاتی تھی۔
عدالت نے سماجی تحفظ ضابطہ کی دفعہ 60(4) کو منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ یہ شق آئین کے آرٹیکل 14، یعنی مساوات کے حق، اور آرٹیکل 21، یعنی زندگی اور شخصی آزادی کے حق، کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ عدالت کے مطابق زچگی رخصت کا مقصد صرف بچے کی پیدائش یا ابتدائی گود لینے کے دنوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا دائرہ ماں اور بچے کے درمیان مضبوط جذباتی تعلق قائم کرنے اور بچے کی بہتر نگہداشت تک پھیلا ہونا چاہیے۔
فیصلے میں عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ بچے کی عمر کی بنیاد پر زچگی رخصت دینا یا روکنا غیر منصفانہ ہے، کیونکہ کئی خواتین مختلف سماجی یا ذاتی وجوہات کی بنا پر زیادہ عمر کے بچوں کو گود لیتی ہیں۔ ایسے میں انہیں اس بنیادی سہولت سے محروم رکھنا ناانصافی کے مترادف ہے۔
سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو یہ مشورہ بھی دیا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ پدری رخصت کے حوالے سے بھی واضح اور جامع قانون بنایا جائے، تاکہ بچوں کی پرورش میں باپ کا کردار بھی مؤثر طریقے سے شامل ہو سکے اور تمام ذمہ داری صرف ماں پر نہ رہے۔
عدالت کے اس فیصلے کو خواتین کے حقوق کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت مانا جا رہا ہے۔ اس سے نہ صرف گود لینے والی خواتین کو راحت ملے گی بلکہ معاشرے میں گود لینے کے عمل کو بھی فروغ ملنے کی امید ہے، کیونکہ اب خواتین کو قانونی تحفظ اور سہولت دونوں حاصل ہوں گے۔