مرکزی حکومت نے شروع کی وقت بچانے والی 2 ’اسپیڈ پوسٹ خدمات‘، تاخیر کی صورت میں ’منی بیک گارنٹی‘

جیوترادتیہ سندھیا نے کہا کہ انڈیا پوسٹ کے پاس دنیا کا سب سے بڑا اور گہرا نیٹورک ہے۔ ملک کے 6.5 لاکھ گاؤں کی ہر تحصیل اور تعلقہ میں لوگ کسی پر سب سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں تو وہ دیہی ڈاک سروس ہے۔

جیوترادتیہ سندھیا، تصویر آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

مرکزی وزیر مواصلات جیوترادتیہ سندھیا نے محکمہ ڈاک کی نئی پریمیم سروسز کی شروعات کی ہے۔ یہ 24 اور 48 گھنٹوں پر مشتمل 2 خدمات ہیں جو صارفین کے لیے بہت مفید ثابت ہوں گے۔ ان سروسز کو 3 زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے، اور اس کے نام ’24 اسپیڈ پوسٹ‘، ’24 اسپیڈ پوسٹ پارسل‘ اور ’48 اسپیڈ پوسٹ‘ رکھے گئے ہیں۔ ان کا اصل مقصد وقت پر پہنچنے والے ضروری سامان کی ڈیلیوری کو مزید تیز کرنا ہے۔ اس موقع پر مرکزی وزیر برائے مواصلات نے دیہی ڈاک سروس کی خوب تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا پوسٹ کے پاس دنیا کا سب سے بڑا اور گہرا نیٹورک ہے۔ ملک کے 6.5 لاکھ گاؤں کی ہر تحصیل اور تعلقہ میں لوگ فیملی کے کسی رکن سے بھی بڑھ کر کسی پر بھروسہ کرتے ہیں، تو وہ دیہی ڈاک سروس ہے۔ ان کے مطابق یہ انڈیا پوسٹ کے لیے ایک نئی شروعات کا لمحہ ہے۔

جیوترادتیہ سندھیا نے بتایا کہ آج ملک کے آخری سرے تک اسمارٹ فون پہنچ چکا ہے۔ ای کامرس کا بازار بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ابھی یہ بازار 11 لاکھ کروڑ روپے کا ہے۔ یہ 2030 تک بڑھ کر 30 لاکھ کروڑ روپے ہونے کی امید ہے۔ سندھیا نے بھروسہ ظاہر کیا کہ ان نئی خدمات سے عام لوگوں اور کاروباریوں کو بہت فائدہ ہوگا۔ ڈاک محکمہ اب جدید ضرورتوں کے حساب سے خود کو بدل رہا ہے۔


اس سروس میں سہولت کے ساتھ ساتھ سیکورٹی کا بھی پورا خیال رکھا گیا ہے۔ اس میں صارفین کو او ٹی پی پر مبنی محفوظ ڈیلیوری، ایس ایم ایس الرٹ اور اینڈ ٹو اینڈ ٹریکنگ کی سہولت ملے گی۔ تجارتی صارفین کے لیے بعد میں ادائیگی، کثیر مقدار میں بکنگ کے لیے مفتی پِک اَپ اور سنٹرلائزڈ بلنگ جیسی سہولیات شامل ہیں۔

ڈاک محکمہ کی ان خدمات کا فائدہ فی الحال ملک کے 6 اہم شہروں میں ملے گا۔ پہلے مرحلہ میں یہ خدمات دہلی، ممبئی، چنئی، کولکاتا، بنگلورو اور حیدر آباد میں دستیاب ہوں گی۔ ’24 اسپیڈ پوسٹ سروس‘ کے تحت اگلے ہی دن یعنی شپمنٹ کی ڈیلیوری فوری اور مدت بند طریقے سے کی جائے گی۔ سب سے خاص بات یہ ہے کہ ڈیلیوری میں تاخیر ہونے پر ’منی بیک گارنٹی‘ بھی دی جائے گی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔