
فائل تصویر آئی اے این ایس
تلنگانہ میں جاری بلدی انتخابات کی مہم چلانے کیلئے کئی نوجوان جو بیرون ملک برسرروزگار ہیں یا تعلیم حاصل کررہے ہیں اپنے والدین کی تائید اوران کے حق میں مہم چلانے کیلئے بیرون ملک سے واپس آ رہے ہیں۔ منچریال میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں اکشے نامی نوجوان، جو آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں ایم ایس کر رہا ہے، اپنی تعلیم سے چھٹی لے کر گھر پہنچا۔ اس کے والد اے ڈی راجو اور والدہ اے رانی بالترتیب وارڈ نمبر 34 اور 36 سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔
Published: undefined
اکشے اپنی تکنیکی مہارت کا استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعہ مہم چلا رہا ہے اور دونوں وارڈس میں انتخابی سرگرمیوں کے درمیان تال میل پیدا کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ اکشے ایک ہونہار طالب علم رہا ہے جس نے باسرٹریپل آئی ٹی سے بی ٹیک کیا اور وپرو جیسی بڑی کمپنی میں ملازمت چھوڑ کر اعلیٰ تعلیم کے لئے آسٹریلیا کا رخ کیا تھا۔
Published: undefined
نلگنڈہ ضلع سے تعلق رکھنے والے پی پروین، جو لندن میں زیرِ تعلیم ہے، اپنے والدین کی مدد کے لئے واپس آگیا۔ اس نے برطانیہ کے انتخابی نظام کے حوالے سے چند دلچسپ معلومات بتاتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں بلدی اداروں کو کونسل کہا جاتا ہے اور وہاں بھی انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعہ ہوتے ہیں۔ پروین کے مطابق وہاں ووٹ کے بدلے نوٹ کا کوئی رواج نہیں ہے اور انتخابات تقریباً صفر بجٹ پر لڑے جاتے ہیں۔
Published: undefined
لندن میں شور و غل یا لاؤڈ اسپیکر کے بجائے صرف ہینڈ مائیک استعمال ہوتے ہیں۔ امیدوار اپنے پمفلٹ گھروں کے باہر لگے باکسس میں ڈال دیتے ہیں تاکہ عوام کو پریشانی نہ ہو۔ دولت مشترکہ ممالک سے برطانیہ جانے والے افراد قانونی ویزا پر وہاں ووٹ کے لئے درخواست داخل کر سکتے ہیں۔ پروین خود وہاں تین بار ووٹ ڈال چکا ہے۔وہ کہتا ہے کہ کہ ووٹنگ کارڈ سے وہاں سیول اسکور میں بھی بہتری آتی ہے۔یہ نوجوان نہ صرف اپنے والدین کی انتخابی مہم سنبھال رہے ہیں بلکہ مقامی افرادکو عالمی سطح پر رائج جمہوری طریقوں اور ووٹ کی اہمیت سے بھی آگاہ کر رہے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined