’اسلام پارٹی‘ کی نسرین بانو شیخ مالیگاؤں کی میئر منتخب، شیوسینا امیدوار کو 25 ووٹوں کے فرق سے دی شکست
ووٹنگ کے دوران نسرین بانو شیخ کی حمایت میں 43 نگر سیوکوں نے ووٹ ڈالے، جبکہ شیوسینا کی لتا گھوڈکے کو محض 18 ووٹ ہی ملے۔ نسرین کو سماجوادی پارٹی کے 5 اور کانگریس کے 3 نگر سیوکوں کی حمایت ملی۔

مہاراشٹر کے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں ہوئے میئر انتخاب میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ مقامی ’اسلام پارٹی‘ کی امیدوار نسرین بانو شیخ مالیگاؤں کی نئی میئر منتخب کی گئی ہیں۔ انھوں نے شیوسینا امیدوار لتا گھوڈکے کو 25 ووٹوں کے بڑے فرق سے شکست دے کر یہ کامیابی حاصل کی۔ اس انتخاب نے میونسپل کارپوریشن کی سیاست میں نئے حالات پیدا کر دیے ہیں اور سیکولر فرنٹ کی طاقت کو بھی صاف طور پر ظاہر کر دیا ہے۔
ووٹنگ کے دوران نسرین بانو شیخ کی حمایت میں مجموعی طور پر 43 نگر سیوکوں نے ووٹ ڈالے، جبکہ شیوسینا کی لتا گھوڈکے کو محض 18 ووٹ ملے۔ نسرین کو اسلام پارٹی کے سبھی 35 نگر سیوکوں کی حمایت تو حاصل ہوئی ہی، سماجوادی پارٹی کے 5 اور کانگریس کے 3 نگر سیوکوں نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ نسرین بانو شیخ مضبوطی کے ساتھ میئر منتخب ہوئیں۔
موصولہ اطلاع کے مطابق شیوسینا امیدوار لتا گھوڈکے کو پارٹی کے سبھی 18 نگر سیوکوں کی حمایت ضرور ملی، لیکن یہ جیت سے بہت کم تھی۔ اس انتخاب میں اے آئی ایم آئی ایم اور بی جے پی کے نگر سیوکوں نے کسی بھی امیدوار کی حمایت میں ووٹنگ نہیں کی۔ اس سے مقابلے کا رخ پہلے ہی صاف ہو گیا تھا۔
مالیگاؤں میں میئر عہدہ کے لیے مجموعی طور پر 3 امیدوار میدان میں تھے اور 5 لوگوں نے پرچۂ نامزدگی داخل کیا تھا۔ آخر میں مقابلہ نسرین بانو شیخ اور لتا گھوڈکے کے درمیان ہی رہا۔ نتیجہ سامنے آنے کے بعد میونسپل کارپوریشن ہال میں سیکولر فرنٹ کے نگر سیوکوں اور حامیوں نے زوردار جشن منایا۔ ڈھول نگاڑوں، نعروں اور تالیوں کے ساتھ نسرین بانو شیخ کی جیت کا سبھی نے استقبال کیا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔