ہریانہ: سورج کنڈ میلے میں جھولا ٹوٹنے سے پولیس انسپکٹر ہلاک، متعدد زخمی

فرید آباد میں سورج کنڈ میلے کے دوران جھولا ٹوٹنے سے افراتفری مچ گئی۔ جائے وقوعہ پر موجود ایک درجن افراد زخمی ہو گئے اور ایک پولیس انسپکٹر کی موت ہو گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ سوشل میڈیا، گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ہریانہ کے فرید آباد میں سورج کنڈ میلے کے دوران ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ ایک جھولا اچانک ٹوٹ گیا جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ حادثے کے وقت جھولے کے قریب لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ جھولے میں چھبیس افراد سوار تھے۔

ریسکیو آپریشن کے دوران پولیس انسپکٹر جگدیش پرساد کی موت ہو گئی۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس آیوش سنگھ نے بتایا کہ حادثے میں 12 افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی موت ہوگئی۔ حادثہ کل شام 6:15 کے قریب پیش آیا۔


ضلع مجسٹریٹ آیوش سنہا نے کہا کہ یہ ایک انتہائی المناک حادثہ تھا۔ پولس انسپکٹر جگدیش پرساد کی موت اس وقت تک ہو چکی تھی جب اسے اسپتال لایا گیا تھا۔ جھولا ہلکا سا ٹوٹنے پر وہ مدد کے لیے دوڑا تھا۔ اس دوران جھولے کا ایک حصہ اس کے چہرے اور سر پر لگا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ جھولا ٹوٹتے ہی چیخ و پکار اور افراتفری مچ گئی۔ لوگ گھبراہٹ میں بھاگنے لگے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ اس المناک حادثے میں تیرہ افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔


ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نایاب سینی نے سورج کنڈ میلے میں ہونے والے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ان کی دلی تعزیت مقتول کے اہل خانہ سے ہے۔ انہوں نے زخمیوں کے مناسب اور فوری علاج کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات بھی جاری کیں۔ یہ حادثہ میلے کے سیکورٹی انتظامات پر سوال اٹھاتا ہے۔

انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائے گی اور ملوث جھولا چلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ معاملے میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ علاوہ ازیں اے ڈی سی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ یہ یقینی بنانے کے لیے بھی قدم اٹھائے جائیں گے کہ مناسب حفاظتی معیارات کی پیروی کی جائے۔ فی الحال جھولے کے آس پاس کے ایریا کو بند کر دیا گیا ہے جہاں یہ حادثہ ہوا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔