’آنکھوں میں آنسو اور درد بھری زبان سے جنگل کٹنے کی تکلیف بیان کی‘، قبائلیوں کے نمائندہ وفد سے راہل گاندھی نے کی ملاقات
راہل گاندھی نے کہا کہ ملک بھر میں جنگل کاٹے جا رہے ہیں، قبائلیوں کی پشتینی زمینیں چھینی جا رہی ہیں اور ان کے ذریعہ معاش کو تباہ کیا جا رہا ہے۔

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے آج ’جَن سنسد‘ میں سنگرولی سے آئے قبائلیوں کے نمائندہ وفد سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران راہل گاندھی نے قبائلیوں کے مسائل سمجھنے کی کوشش کی اور ان کے جائز مطالبات کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم ظاہر کیا۔ اس ملاقات کی ایک ویڈیو کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری کی ہے، جس میں راہل گاندھی نمائندہ وفد میں شامل لوگوں سے بات کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس ویڈیو کے ساتھ کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’قبائلیوں کے لیے زمین ان کی ماں ہے۔ جنگل ان کے لیے صرف درخت نہیں ہیں، اس میں ان کا عقیدہ بستا ہے۔ ان کی روزی روٹی، ان کی ثقافت، ان کا وجود... سب کچھ جنگلوں سے جڑا ہے۔‘‘
کانگریس نے قبائلیوں کے سامنے پیدا مسائل کا ذمہ دار مودی حکومت کو ٹھہرایا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’مودی حکومت اڈانی جیسے دوستوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے قبائلی سماج کے حقوق چھین رہی ہے، ان کے جنگل اور زمینوں پر قبضہ کر رہی ہے، انھیں ظلم کا شکار بنا رہی ہے۔‘‘ پارٹی نے یہ عزم بھی ظاہر کیا کہ ’’یہ تاناشاہ حکومت یاد رکھے، ہم ہر قدم پر قبائلیوں کے ساتھ ہیں۔ ان کے حقوق سلب نہیں ہونے دیں گے۔‘‘
رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بھی اس ملاقات کی ویڈیو اپنے آفیشیل ’فیس بک‘ ہینڈل پر جاری کی ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’جَن سنسد میں سنگرولی سے آئے قبائلیوں کے نمائندہ وفد سے ملاقات ہوئی اور ان کی تکلیف کو قریب سے سمجھا۔‘‘ اس ملاقات کے دوران نمائندہ وفد میں شامل کچھ لوگ بہت جذباتی نظر آئے اور نم آنکھوں کے ساتھ اپنی تکلیف راہل گاندھی کو بتاتے دکھائی دیے۔ راہل خود سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھتے ہیں کہ ’’آنکھوں میں آنسو اور درد بھری زبان سے انھوں نے اپنے جنگل کٹنے کی تکلیف بیان کی۔ جو انھوں نے بتایا، وہ صرف سنگرولی کی کہانی نہیں ہے۔ یہ وہی درد ہے، وہی ناانصافی ہے، جسے ملک بھر کے قبائلی برداشت کر رہے ہیں اور جس کے خلاف آواز میں سالوں سے لگاتار اٹھا رہا ہوں۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’مودی حکومت اپنے اڈانی جیسے دوستوں کے فائدے کے لیے ملک کے قبائلی سماج کو منصوبہ بند طریقے سے ظلم کا شکار بنا رہی ہے۔ ملک بھر میں جنگل کاٹے جا رہے ہیں، قبائلیوں کی پشتینی زمینیں چھینی جا رہی ہیں اور ان کا ذریعہ معاش تباہ کیا جا رہا ہے۔‘‘
قبائلیوں کی پریشانیاں ظاہر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے ’فیس بک پوسٹ‘ میں لکھا ہے کہ ’’قبائلیوں کے لیے زمین کوئی جائیداد نہٰں ہوتی، وہ ان کی ماں ہوتی ہے۔ جنگل ان کے لیے صرف درخت نہیں ہیں، اس میں ان کا عقیدہ بستا ہے۔ ان کے مویشی مر رہے ہیں، ذریعہ معاش تباہ ہو رہا ہے، لیکن ان کا خوف اس سے بھی بڑا ہے۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’آج وہ اپنی آنے والی نسلوں کو لے کر خوفزدہ ہیں۔ انھیں خوف ہے کہ اگلا نشانہ ان کی زندگی ہوگا، ان کے بچوں کا مستقبل ہوگا۔‘‘
موجودہ حالات پر اپنی فکر ظاہر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ قبائلی اس ملک پر قبضہ کرنے والے لوگ نہیں ہیں، وہ ہندوستان کے اوّلین مالک ہیں۔ ان کی جَل، جنگل، زمین پر ان کا اخلاقی اور آئینی دونوں حق ہے۔ ہندوستان اپنے پہلے باشندوں کو کچل کر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ راہل گاندھی نے پوسٹ کے آخر میں یہ عزم بھی ظاہر کیا کہ ’’قبائلی بھائی بہنوں کے ساتھ میں ہمیشہ کھڑا ہوں۔ ان کی زمین، ان کے جنگل، ان کے بچوں کا مستقبل کسی بھی قیمت پر چھینا نہیں جا سکتا۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔







