روس میں چار ہندوستانی طلباء پر کالج کے ہاسٹل میں چاقو سے حملہ

روس کے شہر اوفا میں ایک میڈیکل یونیورسٹی میں چاقو سے حملے میں چار ہندوستانی طلباء زخمی ہو گئے۔ ہندوستانی سفارت خانے نے اس کی تصدیق کی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

روسی جمہوریہ کےباشکورتوستان میں اوفا کی ایک میڈیکل یونیورسٹی میں چاقو سے حملہ ہوا ہے۔ حملے میں چار ہندوستانی طلباء سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے۔ ہندوستانی سفارت خانے نے کل ہفتے کی رات یعنی 7 فروری کو اس واقعے کی تصدیق کی اور بتایا کہ تمام زخمی طلباء کا علاج جاری ہے۔

ہندوستانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر معلومات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اوفا میں ایک بدقسمت حملہ ہوا ہے جس میں چار ہندوستانی طلبہ زخمی ہوئے ہیں۔ سفارت خانے نے کہا کہ وہ روس میں مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور کازان میں ہندوستانی قونصل خانے کے اہلکار زخمی طلباء کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے اوفامیں ہیں۔


ہفتہ، 7 فروری کو، ایک 15 سالہ لڑکا اوفا میں اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی کے کیمپس میں داخل ہوا۔ ملزم سیدھے ہاسٹل میں گیا اور وہاں موجود طلبہ پر اچانک چاقو سے حملہ کر دیا۔ حملہ اس قدر اچانک ہوا ۔روسی وزارت داخلہ کے مطابق ملزم نے متعدد طالب علموں کو چاقو مارا۔ جب پولیس نے اسے پکڑنے کی کوشش کی تو اس نے دو پولیس اہلکاروں پر بھی حملہ کردیا۔ گرفتاری مزاحمت پر ملزم خود زخمی ہو گیا۔ وزارت داخلہ کی ترجمان میجر جنرل ارینا وولک نے بتایا کہ پولیس اہلکار ملزم کو زیر کرنے کے دوران زخمی ہوئے اور حملہ آور نے خود کو بھی زخمی کیا۔

روسی وزارت صحت کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والے چار افراد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ان میں سے ایک کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ نوعمر حملہ آور کو بھی بچوں کے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے اور اس کی حالت تشویشناک ہے۔


مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزم کا تعلق کالعدم نیو نازی تنظیم سے تھا۔ مبینہ طور پر حملے کے دوران وہ قوم پرست نعرے لگا رہا تھا۔ تحقیقاتی ایجنسیوں نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ہر پہلو سے جانچ کر رہے ہیں۔ واقعے کے بعد یونیورسٹی اور گردونواح میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ ہندوستانی سفارت خانے نے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ہندوستانی طلباء کی حفاظت اس کی ترجیح ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔