
فائل تصویر آئی اے این ایس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ ہندوستان تجارتی معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستان روس سے تیل خریدنا بند کردے گا۔ ہندوستانی وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے اس پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کل یعنہ7 فروری کو، وزارت خارجہ نے روسی تیل کی خریداری پر اپنے سابقہ موقف کا اعادہ کیا۔ ایم ای اے نے کہا کہ ہندوستان کے توانائی کے ذرائع کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
Published: undefined
وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا، "ہندوستان کے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانا ہماری حکمت عملی کا ایک بنیادی ستون ہے۔ جہاں تک ہندوستان کے توانائی کے ذرائع کا تعلق ہے، حکومت نے کئی مواقع پر عوامی طور پر کہا ہے کہ 1.4 بلین ہندوستانیوں کے توانائی ذرائع کی حفاظت کو یقینی بنانا اس کی اولین ترجیح ہے۔"
Published: undefined
ایم ای اے کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا، "مارکیٹ کے حالات اور بدلتے ہوئے بین الاقوامی منظر نامے کے مطابق توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانا ہماری حکمت عملی کا بنیادی ستون ہے۔" ہندوستان کے تمام فیصلے اسی تناظر میں ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔
Published: undefined
درحقیقت امریکہ چاہتا ہے کہ ہندوستان روس سے تیل کی خریداری مکمل طور پر بند کر دے۔ ہندوستان نے واضح کیا ہے کہ ملک کی توانائی کی ضروریات کو کسی بھی دوسرے امور پر ترجیح دی جاتی ہے۔ روس سے خام تیل کی خریداری کے حوالے سے ہندوستان کا یہ مستقل موقف رہا ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ روس تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو یوکرین جنگ کی مالی امداد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ تاہم روس نے اس الزام کی سختی سے تردید کی ہے۔
Published: undefined
وزارت خارجہ کا یہ بیان وائٹ ہاؤس کے اس دعوے کے بعد آیا ہے کہ ہندوستان نے روس سے براہ راست یا تیسرے ممالک کے ذریعہ تیل کی خریداری روکنے اور امریکہ سے تیل خریدنے کا عہد کیا ہے۔ امریکہ کی طرف سے یہ بیان اس وقت دیا گیا جب اس نے روسی تیل کی خریداری پر ہندوستان پر عائد 25 فیصد اضافی ٹیرف کو ہٹانے کا اعلان کیا۔
Published: undefined
جب کریملن سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے کہا کہ ہندوستان جہاں سے چاہے تیل خرید سکتا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس اچھی طرح جانتا ہے کہ ہندوستان کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات فراہم کرنے والا وہ واحد ملک نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ یہ مصنوعات دوسرے ممالک سے خریدی ہیں، تو اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز