ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ ہندوستان کے مفادات سے دھوکہ، مودی نے ٹرمپ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے: کانگریس

کانگریس کا کہنا ہے کہ ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ سے ہندوستانی معیشت، زراعت، ایم ایس ایم ای اور متوسط طبقہ کو نقصان پہنچے گا۔ ساتھ ہی روس سے تیل خریداری پر امریکہ کی نگرانی ہندوستان کے وقار پر حملہ ہے۔

<div class="paragraphs"><p>پون کھیڑا، ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: کانگریس نے امریکہ کے ساتھ ہوئے حالیہ تجارتی معاہدے کو ہندوستانی مفادات کے ساتھ دھوکہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کا امریکی صدر ٹرمپ کے سامنے ’سرینڈر‘ قرار دیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ وزیرا عظم مودی نے امریکی صدر کے سامنے پوری طرح سے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔

کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے میڈیا و پبلسٹی ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین اور ترجمان پون کھیڑا نے کہا کہ یہ برابری والا معاہدہ نہیں، بلکہ دباؤ اور بلیک میں کرایا گیا ’سرینڈر‘ ہے۔ انھوں نے طنز کستے ہوئے کہا کہ ’نام نریندر اور کام سرینڈر‘۔ کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ ’’مودی حکومت دہلی نہیں، امریکہ کے ٹائم زون کے مطابق چل رہی ہے۔ سبھی فیصلے امریکہ کی شرطوں پر ہو رہے ہیں۔‘‘


پون کھیڑا نے الزام عائد کیا کہ ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ سے ہندوستان کی معیشت، زرعی شعبہ، ایم ایس ایم ای سیکٹر اور متوسط طبقہ کے مفادات بری طرح متاثر ہوں گے، دوسری طرف امریکہ کو بہت زیادہ فائدہ حاصل ہوگا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کے لیے امریکہ سب سے بڑا اور اہم ’ٹریڈ پلس‘ والا پارٹنر تھا۔ کئی دہائیوں سے ہندوستان نے بڑی مقدار میں امریکہ کو برآمدات کیں اور اپنی معیشت کو مضبوط کیا۔ اب حالات بدل جائیں گے۔ اس نئے معاہدہ کے تحت ہندوستان کو آئندہ 5 سالوں میں امریکہ سے 500 ارب ڈالر کی درآمدات کرنی ہوگی۔ اس کے لیے ہندوستان کو سالانہ درآمدات 42-40 ارب ڈالر سے بڑھا کر تقریباً 100 ارب ڈالر کرنا پڑے گا۔ کانگریس لیڈر نے سوال کیا کہ کمزور ہوتی معیشت اور روپے پر دباؤ کے درمیان یہ اضافی درآمدات کیسے ممکن ہوگا۔ ساتھ ہی حکومت یہ واضح نہیں کر رہی ہے کہ کن کن مصنوعات کی درآمدات ہوگی۔

پون کھیڑا نے میڈیا اہلکاروں سے کہا کہ پہلے امریکی ٹیرف 3 فیصد تھے، جنھیں بڑھا کر 50 فیصد کر دیا گیا، اور اب 18 فیصد کر دیا گیا ہے۔ حکومت اسے رعایت بتا کر جشن منا رہی ہے، جبکہ یہ پہلے کے مقابلہ میں زیادہ ہے۔ روس سے تیل خریداری معاملہ پر امریکہ کے ذریعہ ہندوستان پر نظر رکھنے کی بات سے متعلق کھیڑا نے سخت اعتراض ظاہر کیا۔ انھوں نے کہا کہ نظر چوروں پر رکھی جاتی ہے۔ کیا وزیر اعظم اس بات سے خوش ہیں کہ ہمیں چور کی طر پیش کیا جا رہا ہے؟ کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ ہندوستان کے وقار اور اسٹریٹجک آزادی پر حملہ ہے۔ انھوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کو پارلیمنٹ میں بولنے سے روکا جا رہا ہے، کیونکہ حکومت کو سچ سامنے آنے کا خوف ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران جنگ بندی کے وقت کانگریس کو شبہ تھا کہ حکومت امریکہ کے دباؤ میں سمجھوتہ کر رہی ہے، اور اب وہ شبہ یقین میں بدل گیا ہے۔


پون کھیڑا نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا وزیر اعظم مودی کا نام ’ایپسٹین فائلس‘ میں آنے یا اڈانی-امبانی کے مفادات کی حفاظت کے دباؤ میں یہ معاہدہ کیا گیا ہے؟ حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جب روس سے تیل درآمدگی پر سوال پوچھا جاتا ہے تو وزیر برائے کامرس اسے وزارت خارجہ کا معاملہ بتاتے ہیں، اور وزیر خارجہ سے جب تجارتی معاہدہ سے متعلق سوال کیا جاتا ہے تو وہ اسے وزارت کامرس کا معاملہ بتاتے ہیں۔ علاوہ ازیں قومی سلامتی کے مشیر الگ بیان دیتے ہیں، جس کے بعد وزارت خارجہ کو صفائی دینی پڑتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔