
ڈونالڈ ٹرمپ اور نریندر مودی (فائل)/تصویر سوشل میڈیا
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہندوستانی برآمدات پر 26 فیصد ٹیرف کا اعلان کر دیا ہے۔ ہندوستان سمیت دنیا کے کئی بڑے ملکوں پر بھی امریکہ نئے ٹیرف لگانے جا رہا ہے جس سے پوری دنیا میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔
Published: undefined
ہندوستان پر امریکہ کے ذریعہ 26 فیصد ٹیرف لگائے جانے کے بعد یہ بحث تیز ہو گئی ہے کہ اس کا ہندوستان پر کیسا اثر پڑے گا۔ اے این آئی کے مطابق اس سے بھارت کے کئی سیکٹر میں نقصان ہو سکتا ہے۔ ان میں ٹیکسٹائل، زیورات، الیکٹرانک وغیرہ سیکٹر کو شامل کیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے یہ ریسی پروکل ٹیرف ان ممالک پر لگایا ہے جو امریکہ کے مطابق ان سے اچھا خاصا ٹیرف وصول رہے تھے۔ جو بھی ملک امریکہ سے آئی اشیاء پر ٹیرف وصول رہا تھا اب امریکہ بھی ان ملکوں سے اتنا ہی ٹیرف وصول کرے گا۔
Published: undefined
اے این آئی سے بات چیت کے دوران بینکنگ اور انٹرنیشنل اسٹاک کے ماہر اجئے بگّا نے ٹیرف معاملے پر کئی اہم باتیں بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ امریکی ٹیرف کئی حسابات پر مبنی ہے۔ ان میں کسٹم ڈیوٹی، کرنسی میں بدلاؤ اور جی ایس ٹی کو بھی شامل کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ امریکہ یہ ٹیرف نافذ کرکے ’امریکہ فرسٹ‘ اور اکیلے ہونے والی ذہنیت کی طرف بڑھ رہا ہے۔
Published: undefined
اجئے بگّا نے یہ بھی بتایا کہ ٹرمپ کے ٹیرف سے کن سیکٹر پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان کے گھریلو بازار پر اس کا اثر دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ حالانکہ ہندوستان کے کئی بڑے سیکٹر جیسے ٹیکسٹائل، جوئیلری، الیکٹرانک وغیرہ پر اس ٹیرف کا اثر دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
Published: undefined
انہوں نے کہا کہ میٹل اور تیل کی بکوالی آج صبح سے ہی ڈاؤن دکھائی دے رہی ہے۔ وہیں فارما ابھی باقی سبھی پر توجہ دیتے ہوئے انتظار کے موڈ میں ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹیرف سے ہندوستانی برآمدات میں کمزوری دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
Published: undefined
اجئے بگّا نے بتایا کہ ایسے حالات میں زیادہ تر سرمایہ کار محفوظ پلیٹ فارم کو بڑھاوا دیں گے۔ ان کے مطابق سرمایہ کار بڑھ چڑھ کر گولڈ، جاپان ین، جاپانی سرکار بونڈ کی طرف رجحان کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی شیئر بازار کی شروعات میں اس خبر سے اثر پڑ سکتا ہے۔ وہیں ہندوستانی کاروباریوں کو اپنی برآمدات پر توجہ دینی ہوگی۔ جیسے ایکسپورٹ ڈیوٹی بڑھانا اور امریکہ پر انحصار جیسے اقدامات کرنے ہوں گے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز
تصویر: پریس ریلیز