کیا ٹرمپ کو مناسب جواب ملے گا؟ کیا بھارت چین کو کاروباری سہولیات فراہم کرے گا؟

چین نے یہ امید بھی ظاہر کی ہے کہ ہندوستان چینی کمپنیوں کے لیے منصفانہ اور شفاف کاروباری ماحول پیدا کرے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی بات ہو رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

دنیا کی دو بڑی معیشتوں امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی کے درمیان چین نے ہندوستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ چین نے ہندوستان سے مزید سامان خریدنے اور تجارتی تعاون کو فروغ دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ بیجنگ میں ہندوستان میں چین کے سفیر شو فیہانگ نے کہا کہ ہندوستان اور چین کو تجارت کے نئے مواقع تلاش کرنے چاہئیں اور ہندوستانی کاروباری اداروں کو چینی مارکیٹ میں قدم جمانا چاہئے۔

شو فیہانگ نے گلوبل ٹائمز کو بتایا، "ہم ہندوستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے اور چینی مارکیٹ کے لیے موزوں زیادہ ہندوستانی مصنوعات درآمد کرنے کے لیے تیار ہیں۔" انہوں نے ہندوستانی کمپنیوں کو چین میں کاروباری مواقع تلاش کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہمالیہ کو عبور کر کے چین کی ترقی میں شراکت دار بن سکتی ہیں۔


چین نے یہ امید بھی ظاہر کی ہے کہ ہندوستان چینی کمپنیوں کے لیے منصفانہ اور شفاف کاروباری ماحول پیدا کرے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی بات ہو رہی ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چینی صدر شی جن پنگ نے ہندوستانی صدر دروپدی مرمو کو ایک پیغام بھیجا ہے جس میں دونوں ممالک کو قریب لانے پر زور دیا ہے۔ یہ پیغام ہندوستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر دیا گیا۔

ہندوستان  اور چین 2020 میں وادی گلوان میں تنازع کے بعد سے اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس جھڑپ کے بعد ہندوستان نے کئی چینی سرمایہ کاری پر پابندی لگا دی تھی، جو اب تک جاری ہے۔ تاہم، حال ہی میں دونوں ممالک نے  ایک معاہدہ کیا اور جنوری 2024 میں براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔


ٹرمپ پہلے ہی ہندوستان کو "ٹیرف کنگ" اور "ٹیرف کا غلط استعمال کرنے والا" کہہ چکے ہیں۔ تاہم، ہندوستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو امریکہ کے ساتھ تجارتی تنازعہ کو حل کرنے اور ٹیرف کے معاہدے پر بات چیت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔