’نوجوانوں نے دراڑوں پر چپکے اشتہاروں کو پھاڑ دیا‘، اے آئی سمٹ میں یوتھ کانگریس کے احتجاج کا پون کھیڑا نے کیا دفاع

کانگریس کا کہنا ہے کہ یوتھ کانگریس اے آئی سمٹ کے خلاف نہیں ہے۔ ملک میں گزشتہ 12 سالوں سے دراڑوں کو چھپایا جا رہا ہے، آج ملک کے نوجوانوں نے ان دراڑوں پر چپکائے گئے اشتہاروں کو پھاڑ دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>اے آئی سمٹ کے دوران احتجاج کرتے ہوئے ’یوتھ کانگریس‘ کے کارکنان / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

کانگریس نے ’اے آئی سمٹ‘ میں انڈین یوتھ کانگریس (آئی وائی سی) کے ذریعہ جمعہ کو کیے گئے شرٹ لیس احتجاج کا دفاع کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ احتجاجی مظاہرہ لاکھوں ناراض بے روزگار نوجوانوں کی آواز تھی۔ اس مظاہرہ کا نشانہ ’سمجھوتہ کرنے والے‘ وزیر اعظم نریندر مودی تھے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ یوتھ کانگریس ’اے آئی سمٹ‘ کے خلاف نہیں ہے، لیکن بی جے پی حکومت میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے خلاف وہ مزید خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے اس بارے میں ایک ویڈیو پیغام جاری کر واضح لفظوں میں کہا ہے کہ نوجوانوں کے احتجاج پر جو ہنگامہ کھڑا کیا جا رہا ہے، وہ برسراقتدار طبقہ کا خوف ظاہر کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں گزشتہ 12 سالوں سے دراڑوں پر اشتہار ڈال کر چھپایا جا رہا ہے۔ آج ملک کے نوجوانوں نے ان دراڑوں پر چپکائے گئے اشتہاروں کو پھاڑ دیا ہے۔


پون کھیڑا نے کہا کہ ’’آج یوتھ کانگریس نے اے آئی سمٹ میں جو پُرامن احتجاجی مظاہرہ کیا ہے، وہ نوجوانوں کی ناراضگی اور غصے کا مظہر ہے۔ میڈیا کا ایک گروپ اس معاملہ میں خوب شور مچا رہا ہے، کہہ رہا ہے کہ احتجاجی مظاہرہ کے لیے غلط جگہ کا انتخاب کیا گیا۔ اس سے ملک کی بدنامی ہو گئی۔‘‘ انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’’احتجاجی مظاہرہ کہاں کیا جاتا ہے؟ احتجاج وہیں درج کیا جاتا ہے جہاں لوگوں کو نظر آئے۔ جہاں پر کیمرے ہوں اور لوگ احتجاجی مظاہرہ کو دیکھ سکیں۔‘‘ شاعرانہ انداز اختیار کرتے ہوئے پون کھیڑا کہتے ہیں:

اب کسی کو نظر آتی نہیں کوئی دراڑ
گھر کی ہر دیوار پر چپکے ہوئے ہیں اشتہار

یہ شعر کہنے کے بعد پون کھیڑا نے کہا کہ ’’آج ہندوستان کے نوجوانوں نے وہ اشتہار کھینچ کر پھاڑ دیے، تاکہ ملک ان دراڑوں کو دیکھ سکے، جنھیں گزشتہ 12 سالوں سے چھپایا جا رہا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’پارلیمنٹ میں ہم بولتے ہیں تو حزب اختلاف کے قائد کو ملک کے لیے خطرہ بتا دیا جاتا ہے۔ 25 اراکین پارلیمنٹ کو ایوان سے باہر کر دیا جاتا ہے۔ ہم سڑک پر اترتے ہیں تو غدار ہو جاتے ہیں۔ آخر ہم اپنی بات کہاں رکھیں؟‘‘


اس معاملہ میں انڈین یوتھ کانگریس کے صدر اودے بھانو چِب نے بھی اپنا واضح موقف میڈیا کے سامنے رکھا۔ انھوں نے کہا کہ ’اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ کے دوران تنظیم کے کارکنان کا مظاہرہ اس انعقاد کے خلاف نہیں، بلکہ امریکہ کے ساتھ ہوئے تجارتی معاہدہ کے خلاف تھا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جب ملک کے کسانوں کا سودا کیا جا رہا ہو، ہندوستان مخالف تجارتی معاہدہ ہو رہا ہو اور نوجوانوں کو بے روزگار رکھ کر نفرت کی سیاست میں جھونکا جا رہا ہو، تو پھر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔