چھتیس گڑھ: اسکول میں کس نے دیا ’خوفناک ٹاسک‘؟ 35 طلبہ نے ایک ساتھ کاٹ لیے اپنے ہاتھ

والدین نے ’ہاتھ کاٹنے‘ کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’بچے گھر پر ایسا رویہ اختیار نہیں کرتے اور یہ اسکول کے احاطے میں نگرانی کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

دھمتری ضلع کے دہدہا گاؤں میں ایک سرکاری مڈل اسکول میں زیر تعلیم 35 طلبہ نے بلیڈ، پِن اور ببول کے کانٹوں سے اپنے ہاتھوں کو زخمی کر لیا۔ جیسے ہی اس واقعے کے بارے میں لوگوں کو پتہ چلا، علاقے میں ہلچل مچ گئی تھی۔ اب اس معاملے میں ایک حیران کر دینے والا انکشاف ہوا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچوں نے خود ایک دوسرے کو ہاتھ زخمی کرنے جیسا ’ٹاسک‘ دیا تھا۔ کچھ طلبہ نے بتایا کہ انہوں نے دوسرے کو ایسا کرتے دیکھ تو خود بھی ویسا ہی کیا۔

افسران نے واضح کیا ہے کہ واقعہ کا تعلق نشہ، توہم پرستی یا کسی قسم کے کالا جادو سے نہیں پایا گیا ہے۔ یہ واقعہ 13 فروری کو منظر عام پر آیا، جس کے بعد 18 فروری کو محکمہ صحت نے اسکول کا معائنہ کیا۔ ابتدائی تحقیقات میں بچوں کے ہاتھوں پر زخموں کے نشانات پائے گئے۔ ضلعی تعلیمی افسر ابھے جیسوال نے اسکول کے پرنسپل کو نوٹس جاری کر کے 3 روز کے اندر جواب طلب کیا ہے۔ جبکہ اس معاملے کی تحقیقات سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) کی سطح پر کرائی جا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگر کسی استاذ، ملازم یا کسی اور شخص کی لاپرواہی یا اشتعال انگیزی کا کردار سامنے آتا ہے تو سخت کارروائی کی جائے گی۔


اسکول کے پرنسپل پونیت رام ساہو نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی اعلیٰ افسران کو مطلع کر دیا گیا تھا اور تحقیقات کی درخواست کی گئی تھی۔ 16 فروری سے مسلسل طلبہ اور ان کے والدین کی کونسلنگ کرائی جا رہی ہے، تاکہ بچوں کی ذہنی کیفیت کو سمجھا جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کو دوبارہ ہونے سے روکا جا سکے۔

بچوں کے والدین نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بچے گھر پر ایسا رویہ اختیار نہیں کرتے اور یہ اسکول کے احاطے میں نگرانی کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ والدین نے اسکول میں حفاظتی انتظام کو بہتر بنانے اور باقاعدہ نفسیاتی مشاورت کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ کلکٹر اویناش مشرا کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہے اور یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ بچوں کو کس نے اس قدم کے لیے اکسایا۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔