امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کو دیا شدید جھٹکا، گلوبل ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کیا رَد

3-6 کی اکثریت سے سنایا گیا یہ فیصلہ ایمرجنسی پاورس قانون کے تحت عائد کیے گئے ٹیرف پر مرکوز ہے، جس میں بڑے پیمانے پر لگائے گئے وہ ’ریسپروکل ٹیرف‘ بھی شامل ہیں جو ٹرمپ نے ہر دوسرے ملک پر لگائے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو آج ٹیرف معاملہ پر شدید جھٹکا دیا ہے۔ عدالت نے جمعہ کے روز ٹرمپ کے گلوبل ٹیرف کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے رَد کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے صدر ٹرمپ کے ٹیرف لگانے سے متعلق اختیار کے خلاف فیصلہ سنایا اور کہا کہ امریکہ کے ٹریڈنگ پارٹنرس پر بڑے ٹیرف لگانے کے لیے ایمرجنسی اختیارات کا استعمال کرنا غیر قانونی تھا۔

سپریم کورٹ کے ذریعہ 6-3 کی اکثریت سے سنایا گیا یہ فیصلہ ایمرجنسی پاورس قانون کے تحت عائد کیے گئے ٹیرف پرمرکوز ہے، جس میں بڑے پیمانے پر لگائے گئے وہ ’ریسپروکل ٹیرف‘ بھی شامل ہیں جو ٹرمپ نے تقریباً ہر دوسرے ملک پر عائد کیے تھے۔ ٹرمپ نے اپنے اسی ایجنڈے کے تحت ہندوستان پر بھی ٹیرف لگانے کا اعلان کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ سے ٹرمپ کو اپنے معاشی ایجنڈے کے ایک اہم ایشو پر بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ ٹرمپ کے بڑے ایجنڈے کا پہلا بڑا حصہ ہے جو براہ راست طور پر ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سامنے آیا ہے، جس کی انھوں نے اپنی پہلی مدت کار میں 3 کنزرویٹیو قانون دانوں کی تقرری کے ساتھ خاکہ دینے کی شروعات کی تھی۔


امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنے معاشی ایجنڈا کے تحت گلوبل ٹیرف میں بے باک رہے ہیں اور اسے امریکی تاریخ کے سب سے اہم معاملوں میں سے ایک بتایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف فیصلہ آنا ملک کی معیشت کے لیے ایک بڑا نقصان ہوگا۔ فی الحال عدالت کے فیصلہ سے ٹرمپ انتظامیہ کے معاشی ایجنڈے کو زبردست جھٹکا لگا ہے، اور اس کے دور رَس نتائج برآمد ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔